بلوچستان میں فتنہ الہندستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے ’’ہیروف 2.0‘‘ کے نام پر کوئٹہ، گوادر، قلات، نوشکئی اور دیگر اضلاع میں کی جانے والی بیک وقت دہشت گردانہ کاروائیاں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی بروقت، مضبوط اور مؤثر ترین کاروائی کے باعث مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام مقامات پر دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور مجموعی صورتحال سکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
معلومات کے مطابق کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دہشت گردوں نے ایک پولیس وین پر حملہ کیا، جس کے فوراً بعد شروع ہونے والی جوابی کاروائی میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کے دستوں نے چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ نوشکئی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کرنے والے حملہ آوروں کو الرٹ فورسز نے بھگا دیا۔ دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر کی جانے والی خودکش حملے کی کوشش کو ناکام بنا کر حملہ آوروں کا محاصرہ کر لیا گیا۔
قلات میں ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر اور پولیس لائنز پر حملہ آوروں کو سکیورٹی فورسز نے زبردست جواب دیا اور انہیں شدید نقصان پہنچایا۔ پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈ کی چوکی پر کی گئی فائرنگ کو ناکام بنایا گیا۔ گوادر میں مزدوروں کی کالونی پر حملے کی کوشش کو پولیس اور ایف سی نے تعیناتی سے ناکام بنا دیا۔ اسی طرح بلچہ، تمپ اور مستونگ میں سیکیورٹی چوکیوں پر کیے گئے حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔
Breaking: Operation Herof hits Quetta – heavy gunfire reported across the city. pic.twitter.com/PfvcykMRLd
— The Balochistan Post – English (@TBPEnglish) January 31, 2026
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے چند اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ دوسری جانب دہشت گردوں کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کا مؤقف ہے کہ یہ بیک وقت حملے دراصل فتنہ الہندستان کی جانب سے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سکیورٹی آپریشنز میں 50 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد کی جانے والی مایوسانہ اور بزدلانہ کارروائی تھی، جس کا مقصد دباؤ کم کرنا اور اپنے بیرونی سرپرستوں کو مطمئن کرنا تھا۔
دیکھیے: بلوچستان میں بی ایل اے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی، خاتون کو اغوا کر لیا