دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج بدھ 4 فروری کو ایک اہم اور ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور خطرات کا جائزہ لینا ہے، جبکہ افغانستان میں اس کے پُرتشدد نیٹ ورک اور سرگرمیوں پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس سے قبل سلامتی کونسل کے اراکین کو انتباہ کیا کہ داعش کی سرگرمیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں اور عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔۔ گوتریس کے مطابق بین الاقوامی برادری کے لیے فوری، مربوط اور ٹھوس اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اس دہشت گرد تنظیم کے پھیلاؤ اور اثرات کو روکا جا سکے۔
سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ داعش سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں اپنی کاروائیاں اور اثر و رسوخ کافی حد تک بڑھا لیا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف مقامی سطح پر تشدد پھیلا رہے ہیں، بلکہ بین الاقوامی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو تقویت دینے کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ گوتریس نے اس بات پر کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو مالی، اسلحہ اور تربیتی مدد فراہم کرنے والے چینلز کو بلا تاخیر بند کرنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
اس ہنگامی اجلاس میں سلامتی کونسل کے رکن ممالک کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے گا اور ممکنہ ردِعمل، بین الاقوامی تعاون اور علاقائی شراکت داری کے نئے راستوں پر غور کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان میں سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی کے چیلنجز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ داعش کا ابھار محض افغانستان کا اندرونی مسئلہ نہیں رہا۔ یہ خطرہ خطے کی سرحدوں سے نکل کر عالمی دہشت گردی کے لیے ایک نئے محرک کا کردار ادا کر رہا ہے، جس کے پیشِ نظر فوری اور جامع عالمی ردِعمل کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔