لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

February 4, 2026

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی سرپرستی میں ہوئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے

February 4, 2026

رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

February 4, 2026

آریا فارمولہ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارتی اقدام کے علاقائی اور عالمی سطح پر دور رس اثرات ہوں گے۔ پاکستان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے میکنزم پر عملدرآمد کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

February 3, 2026

بلوچستان میں دہشت گردی اور بیرونی سرپرستی؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا داخلی و خارجی عوامل کا جامع تجزیہ

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی اور بیرونی سرپرستی؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا داخلی و خارجی عوامل کا جامع تجزیہ

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے تسلیم کیا کہ بلوچ عوام کے حقیقی مسائل موجود ہیں اور ان کے حل کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کا حل آئینی اور پرامن دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔

February 4, 2026

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ جیو نیوز کے پروگرام میں 3 فروری 2026 کو گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان میں دہشت گردی، بیرونی سرپرستی اور صوبے کو درپیش سماجی و معاشی چیلنجز پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو ملک کے تقریباً 43 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، مگر اس کی آبادی نسبتاً کم ہے جو تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ کے قریب ہے۔

آبادی، روزگار اور ریاست کی ذمہ داری
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کے مطابق صوبے میں 19 سے 40 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد تقریباً 40 سے 50 لاکھ کے درمیان ہے، جنہیں روزگار کے مواقع درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسی ریاست کے لیے اس آبادی کو روزگار فراہم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں، بشرطیکہ مربوط منصوبہ بندی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔

سیاسی قیادت اور نجی شعبے کا کردار
انہوں نے زور دیا کہ اس ضمن میں وفاقی، صوبائی، ضلعی اور مقامی سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ بڑے کاروباری گروپس کو بھی ریاست کے ساتھ مل کر فعال کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ ترقی اور روزگار کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔

مقامی حکومت اور ضلعی سطح پر ترقی
گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان کے ان اضلاع میں جہاں ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور انہیں فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، وہاں مقامی حکومت کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ ان کمیٹیوں کے ذریعے مقامی نمائندوں کے تعاون سے ضلعی سطح پر ترقیاتی پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جس سے گورننس بہتر ہوئی ہے۔

ریکو ڈیک منصوبہ اور وسائل سے متعلق بیانیہ
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے صوبے میں آمدنی میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور مقامی افراد کے لیے ہنر مندی کی ترقی متوقع ہے۔

دہشت گردی کا مقصد اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا
انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر چاغی اور اس کے گرد و نواح میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ریکو ڈیک جیسے اہم منصوبوں کو سبوتاژ کیا جا سکے۔ اسی طرح گوادر میں مزدوروں کو نشانہ بنانا دراصل گوادر پورٹ اور اس سے وابستہ ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

عوام کو ورغلانے کی سازشیں
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ بلوچ عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دشمن عناصر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گرد اپنے بیرونی آقاؤں سے کبھی کچھ حاصل نہیں کر پاتے بلکہ انہیں محض تباہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پرامن جدوجہد اور آئینی راستہ
انہوں نے واضح کیا کہ آئینی حدود کے اندر پرامن سیاسی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، تاہم ریاست کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کسی صورت قابلِ جواز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق کی بات کرنے میں کوئی قباحت نہیں، لیکن اس کے لیے ہتھیار اٹھانا درست راستہ نہیں۔

بلوچ عوام کے مسائل اور ریاست کی ذمہ داری
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے تسلیم کیا کہ بلوچ عوام کے حقیقی مسائل موجود ہیں اور ان کے حل کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان مسائل کا حل آئینی اور پرامن دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے ہی ممکن ہے۔

علاقائی مثالیں اور انتباہ
گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ چاہے عراق ہو، لیبیا یا شام، بیرونی طاقتوں نے مقامی لوگوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور بعد میں انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی ریاست کا دل اور دماغ اتنا بڑا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو معاف اور ساتھ لے کر چل سکتی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ بعض افراد نے غلط راستہ اختیار کر لیا ہے۔

متعلقہ مضامین

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

February 4, 2026

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی سرپرستی میں ہوئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے

February 4, 2026

رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

February 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *