راولپنڈی کے مال روڈ پر فلیش مین ہوٹل کے قریب موٹر سائیکل سوار نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔
واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن مکمل کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔
ہلاک حملہ آور کی شناخت ضلع خیبر کے رہائشی محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو پی ٹی آئی کا فعال رکن تھا۔ ملزم کے قبضے سے پی ٹی آئی کا پرچم، اسلحہ، گولیاں اور اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق محمد حسین کے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں اور عہدیداران سے روابط رہے ہیں اور وہ پی ٹی آئی کی متعدد ریلیوں، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں میں بھی شریک ہوتا رہا ہے۔ ابتدائی تجزیے کے مطابق اس کے سوشل میڈیا پروفائلز پر بھی پی ٹی آئی سے وابستگی ظاہر کرنے والی تصاویر موجود ہیں۔
ریکارڈ کے مطابق محمد حسین کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے 31 جنوری 2024 کو ایک مرتبہ رابطہ ہوا، جبکہ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد اقبال خان سے پانچ، پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی سے 10 اور آئی ایس ایف خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر مشرف آفریدی سے 24 مرتبہ رابطے کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
دستیاب خاندانی معلومات کے مطابق محمد حسین کے چار بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ابتدائی معلومات میں اس کے خاندان کے افراد کی شناخت اور دیگر کوائف بھی شامل ہیں۔ محمد حسین کے زیرِ استعمال موبائل نمبر کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس کا آخری معلوم مقام باڑہ، ضلع خیبر، پشاور بتایا گیا ہے، جبکہ ایک دوسرے نمبر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت اٹک میں فعال ہے اور محمد حسین کے زیرِ استعمال نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ جماعت کے عناصر 2014 کے دھرنے اور 9 مئی جیسے واقعات سے لے کر مسلسل ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔