ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے امن کے قیام کے لیے اس اقدام پر اتفاق کیا ہے اور یہ پیشرفت حالیہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان 34 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی

April 16, 2026

آئی جی پولیس کے مطابق ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رابطہ کرتا اور حساس لوکیشنز کی معلومات حاصل کر کے دشمن کو فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم مختلف افراد کو ویڈیوز اور لوکیشنز کے بدلے رقم بھی ادا کرتا رہا۔

April 16, 2026

یہ واقعہ ایک دن قبل ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا، جہاں شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم کی فائرنگ سے 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے بعد ازاں خودکشی کر لی تھی جبکہ اس واقعے کے حوالے سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

April 16, 2026

امریکی صدر نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، تاہم ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا۔

April 16, 2026

ایکسپورٹ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور ملکی معیشت کو سہارا ملے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برآمدات بڑھانا معاشی ترجیحات میں شامل ہے۔

April 16, 2026

فضا علی نے فیس بک پر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہلکا پھلکا فیملی لمحہ تھا جو اچانک پیش آیا اور اس کا کوئی منفی مقصد نہیں تھا، تاہم اگر اس سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں۔

April 16, 2026

افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں

افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے
افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے

ہزارہ برادری کی سیاسی نمائندگی میں کمی، پارٹی کی مرکزیت پسندی اور عوامی روابط سے انقطاع کو اس اقدام کی بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے

February 4, 2026

افغانستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک زبردست ہلچل کی کیفیت طاری ہے جہاں سیاسی جماعت “حزب وحدت اسلامی” سے وابستہ درجنوں ارکان نے ایک ساتھ اجتماعی استعفے دے دیے ہیں۔ یہ احتجاجی اقدام جماعت کے بااثر ہزارہ رہنماء محمد محقق کی قیادت میں کام کرنے والے گروپ نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے طرزِ عمل اور تنظیم میں “مقامی نمائندگی کے فقدان” کے خلاف اٹھایا ہے۔

مرکزیت پسندی اور عوامی روابطہ
مستعفی اراکین نے ابتدائی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی اپنے بانی اصولوں سے ہٹ چکی ہے اور “عوامی امیدوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل ناکام” ہوگئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل ایک محدود حلقے میں مرکوز ہوکر رہ گیا ہے، جس نے صوبائی و علاقائی کارکنوں کو بالکل حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ بالخصوص ہزارہ برادری جس کی سیاسی نمائندگی کی یہ جماعت دعوے دار رہی ہے، کے مسائل اور آواز کو پارٹی ایجنڈے میں مناسب جگہ نہ ملنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔

محقق کا خاموش راگ اور سیاسی مستقبل
اگرچہ محمد محقق خود یا ان کے قریبی ترجمان نے اب تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن مستعفی ارکان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں آزادانہ طور پر” آگے بڑھائیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق محقق گروپ کے سامنے یا تو ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے یا پھر موجودہ سیاسی دھارے میں کسی نئے اتحاد کی راہ اختیار کرنے کے اختیارات ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف مقامی سطح پر اپنے حلقہ اثر میں مؤثر سیاسی نمائندگی بحال کرنا ہے۔

اثر و رسوخ کے خاتمے کا آغاز؟
سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو افغانستان کی ہمہ پہلو سیاسی تاریخ میں ایک “اہم موڑ” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ استعفے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہزارہ برادری سمیت مختلف حلقوں میں “نئی قیادت اور نئی حکمتِ عملی” کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ کئی مبصرین تو اسے “محقق کے عرصہ دراز سیاسی اثر و رسوخ کے زوال کا آغاز” بھی قرار دے رہے ہیں۔

حکام کی خاموشی
اب تک نہ تو حزب وحدت اسلامی کی مرکزی قیادت کی طرف سے اور نہ ہی طالبان حکومت کی جانب سے اس بڑے سیاسی انشقاق پر کوئی رسمی موقف سامنے آیا ہے۔ اس خاموشی کو سیاسی حلقوں میں تنظیم کے اندرونی بحران کی “گہرائی اور پیچیدگی” کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ پارٹی قیادت ہنگامی بنیادوں پر داخلی مشاورت میں مصروف ہے تاکہ اس بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

علاقائی سلامتی
یہ سیاسی تقسیم صرف افغانستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے گی۔ ہزارہ کمیونٹی، جو جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے ایک اہم علاقائی اکائی ہے، کی سیاسی نمائندگی کا مسئلہ خطے کی استحکام پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اپنے “سیاسی توازن” کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ یہ واقعہ پڑوسی ممالک کی افغان پالیسیوں پر نظرثانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دیکھیے: کرم میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا افغان نژاد دہشت گرد جبار گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے امن کے قیام کے لیے اس اقدام پر اتفاق کیا ہے اور یہ پیشرفت حالیہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان 34 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی

April 16, 2026

آئی جی پولیس کے مطابق ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہوئے لوگوں سے رابطہ کرتا اور حساس لوکیشنز کی معلومات حاصل کر کے دشمن کو فراہم کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم مختلف افراد کو ویڈیوز اور لوکیشنز کے بدلے رقم بھی ادا کرتا رہا۔

April 16, 2026

یہ واقعہ ایک دن قبل ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا، جہاں شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم کی فائرنگ سے 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے بعد ازاں خودکشی کر لی تھی جبکہ اس واقعے کے حوالے سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

April 16, 2026

امریکی صدر نے ایک اور انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، تاہم ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا۔

April 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *