رپورٹ میں قبائلی اضلاع کی مقامی محرومیوں اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو الگ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پی ٹی ایم کے سکیورٹی اقدامات پر اعتراضات اور ٹی ٹی پی کے خلاف مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

August 11, 2026

طالبان کے نورستان کے گورنر کا پاکستان اور امریکہ پر الزام کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس پرانے حربے کا تسلسل ہے جس کے تحت طالبان حکومت اندرونی ناکامیوں اور بڑھتی مزاحمت کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالتی آئی ہے۔

August 11, 2026

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں

افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے
افغانستان کی اہم سیاسی جماعت حزب وحدت اسلامی سے محمد محقق کے حامی درجنوں ارکان نے اجتماعی استعفے دے دیے۔ اراکین نے پارٹی قیادت کی مرکزیت پسندی اور ہزارہ برادری سمیت مقامی نمائندگی کے فقدان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے

ہزارہ برادری کی سیاسی نمائندگی میں کمی، پارٹی کی مرکزیت پسندی اور عوامی روابط سے انقطاع کو اس اقدام کی بنیادی وجوہات قرار دیا گیا ہے

February 4, 2026

افغانستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک زبردست ہلچل کی کیفیت طاری ہے جہاں سیاسی جماعت “حزب وحدت اسلامی” سے وابستہ درجنوں ارکان نے ایک ساتھ اجتماعی استعفے دے دیے ہیں۔ یہ احتجاجی اقدام جماعت کے بااثر ہزارہ رہنماء محمد محقق کی قیادت میں کام کرنے والے گروپ نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے طرزِ عمل اور تنظیم میں “مقامی نمائندگی کے فقدان” کے خلاف اٹھایا ہے۔

مرکزیت پسندی اور عوامی روابطہ
مستعفی اراکین نے ابتدائی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی اپنے بانی اصولوں سے ہٹ چکی ہے اور “عوامی امیدوں کی ترجمانی کرنے میں مکمل ناکام” ہوگئی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فیصلہ سازی کا عمل ایک محدود حلقے میں مرکوز ہوکر رہ گیا ہے، جس نے صوبائی و علاقائی کارکنوں کو بالکل حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ بالخصوص ہزارہ برادری جس کی سیاسی نمائندگی کی یہ جماعت دعوے دار رہی ہے، کے مسائل اور آواز کو پارٹی ایجنڈے میں مناسب جگہ نہ ملنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔

محقق کا خاموش راگ اور سیاسی مستقبل
اگرچہ محمد محقق خود یا ان کے قریبی ترجمان نے اب تک اس معاملے پر کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن مستعفی ارکان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں آزادانہ طور پر” آگے بڑھائیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق محقق گروپ کے سامنے یا تو ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے یا پھر موجودہ سیاسی دھارے میں کسی نئے اتحاد کی راہ اختیار کرنے کے اختیارات ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف مقامی سطح پر اپنے حلقہ اثر میں مؤثر سیاسی نمائندگی بحال کرنا ہے۔

اثر و رسوخ کے خاتمے کا آغاز؟
سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو افغانستان کی ہمہ پہلو سیاسی تاریخ میں ایک “اہم موڑ” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ استعفے ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب ہزارہ برادری سمیت مختلف حلقوں میں “نئی قیادت اور نئی حکمتِ عملی” کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ کئی مبصرین تو اسے “محقق کے عرصہ دراز سیاسی اثر و رسوخ کے زوال کا آغاز” بھی قرار دے رہے ہیں۔

حکام کی خاموشی
اب تک نہ تو حزب وحدت اسلامی کی مرکزی قیادت کی طرف سے اور نہ ہی طالبان حکومت کی جانب سے اس بڑے سیاسی انشقاق پر کوئی رسمی موقف سامنے آیا ہے۔ اس خاموشی کو سیاسی حلقوں میں تنظیم کے اندرونی بحران کی “گہرائی اور پیچیدگی” کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ خیال ہے کہ پارٹی قیادت ہنگامی بنیادوں پر داخلی مشاورت میں مصروف ہے تاکہ اس بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

علاقائی سلامتی
یہ سیاسی تقسیم صرف افغانستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے گی۔ ہزارہ کمیونٹی، جو جغرافیائی اور نسلی اعتبار سے ایک اہم علاقائی اکائی ہے، کی سیاسی نمائندگی کا مسئلہ خطے کی استحکام پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان حکومت اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر اپنے “سیاسی توازن” کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ یہ واقعہ پڑوسی ممالک کی افغان پالیسیوں پر نظرثانی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

دیکھیے: کرم میں انٹیلجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کا افغان نژاد دہشت گرد جبار گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

رپورٹ میں قبائلی اضلاع کی مقامی محرومیوں اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو الگ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پی ٹی ایم کے سکیورٹی اقدامات پر اعتراضات اور ٹی ٹی پی کے خلاف مؤقف پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

August 11, 2026

طالبان کے نورستان کے گورنر کا پاکستان اور امریکہ پر الزام کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ اس پرانے حربے کا تسلسل ہے جس کے تحت طالبان حکومت اندرونی ناکامیوں اور بڑھتی مزاحمت کا ملبہ ہمیشہ پاکستان پر ڈالتی آئی ہے۔

August 11, 2026

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *