یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک قومی دن نہیں بلکہ یہ اس اجتماعی عہد کی تجدید ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہر سال 5 فروری کو پورا ملک، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی ایک آواز ہو کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی غیرمتزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن کشمیریوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے میں مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور منظم ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ چھ لاکھ سے زائد کشمیریوں کی شہادتیں، ہزاروں جبری گمشدگیاں، لاکھوں گرفتاریاں اور ایک پوری نسل کا خوف اور محرومی میں پروان چڑھنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب عالمی تنازع ہے۔ 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی، جس کے نتیجے میں وادی ایک کھلی جیل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
پاکستانی قیادت کی جانب سے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر دیے گئے بیانات اس امر کا واضح اظہار ہیں کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی بھرپور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم، صوبائی قیادت اور افواجِ پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی اس تنازع کے حل کی قانونی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں، مگر عالمی برادری کی مسلسل بے حسی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں اور میڈیا پر پابندیاں نہ صرف عالمی قوانین بلکہ بنیادی انسانی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بھارتی اقدامات سے یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ طاقت کے ذریعے ایک قوم کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کبھی آزادی کی جدوجہد کو ختم نہیں کر سکا۔
یومِ یکجہتی کشمیر اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد صرف جغرافیائی نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور آزادی کی جنگ ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں آزاد اور غیر جانبدار استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ یہی واحد راستہ ہے جو خطے کو کشیدگی، عدم استحکام اور ممکنہ تصادم سے بچا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیا جائے، بھارت کو بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر مجبور کیا جائے اور کشمیری عوام کی آواز کو عالمی فورمز پر سنا جائے۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے، کشمیری عوام تنہا نہیں اور آزادی کی یہ جدوجہد بالآخر ضرور منزل پائے گی۔