حالیہ دہشت گردانہ واقعات میں اضافے کے بعد پاکستان نے بڑی سکیورٹی کاروائی کرتے ہوئے قومی ڈیٹا بیس سے 7,500 سے زائد شدت پسندوں کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق یہ افراد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، حافظ گل بہادر گروپ اور جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیموں سے منسلک پائے گئے۔
اطلاعات کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت صرف شہریت ہی منسوخ نہیں کی گئی، بلکہ متعلقہ افراد کے تمام بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں اور دیگر منقولہ و غیر منقولہ اثاثے بھی ریاستی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کے سلسلے کے بعد کیا گیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے مالی اور انتظامی ڈھانچے کو تباہ کرنا ان کی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کلید ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس سخت قدم کا بنیادی مقصد ریاست مخالف سرگرمیوں کا راستہ روکنا، دہشت گردوں کی مالی امداد کے چینلز کا خاتمہ کرنا اور ملکی سلامتی کو مستحکم بنانا ہے۔ متعلقہ ادارے اب قانونی تقاضوں کے مطابق باقاعدہ کارروائیوں کے نئے مراحل مکمل کریں گے، جبکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن بھی جاری رہیں گے۔