"> پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی، 7,500 سے زائد شدت پسندوں کی شہریت منسوخ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف نئی حکمت عملی، 7,500 سے زائد شدت پسندوں کی شہریت منسوخ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے کالعدم تنظیموں سے منسلک 7,500 سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے اور ان کے تمام اثاثے ضبط کر لیے ہیں
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان نے کالعدم تنظیموں سے منسلک 7,500 سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کر دی ہے اور ان کے تمام اثاثے ضبط کر لیے ہیں

وزارتِ داخلہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ریاست مخالف سرگرمیوں کو روکنا اور ملکی سلامتی مضبوط کرنا ہے

February 5, 2026

حالیہ دہشت گردانہ واقعات میں اضافے کے بعد پاکستان نے بڑی سکیورٹی کاروائی کرتے ہوئے قومی ڈیٹا بیس سے 7,500 سے زائد شدت پسندوں کی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق یہ افراد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، حافظ گل بہادر گروپ اور جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیموں سے منسلک پائے گئے۔
اطلاعات کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت صرف شہریت ہی منسوخ نہیں کی گئی، بلکہ متعلقہ افراد کے تمام بینک اکاؤنٹس، جائیدادیں اور دیگر منقولہ و غیر منقولہ اثاثے بھی ریاستی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ فیصلہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کے سلسلے کے بعد کیا گیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے مالی اور انتظامی ڈھانچے کو تباہ کرنا ان کی کارروائیوں کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کلید ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس سخت قدم کا بنیادی مقصد ریاست مخالف سرگرمیوں کا راستہ روکنا، دہشت گردوں کی مالی امداد کے چینلز کا خاتمہ کرنا اور ملکی سلامتی کو مستحکم بنانا ہے۔ متعلقہ ادارے اب قانونی تقاضوں کے مطابق باقاعدہ کارروائیوں کے نئے مراحل مکمل کریں گے، جبکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن بھی جاری رہیں گے۔

دیکھیے: دو منٹ کے لیے لگا وہ مجھے مار ہی ڈالے گا‘: انڈیا میں کشمیری نوجوانوں پر حملہ اور ہراسانی کے بڑھتے واقعات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *