بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف چلائے گئے آپریشن “ردّالفتنہ-1” کو کامیابی سے مکمل کر لیا، جس کے نتیجے میں 216 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن انٹیلی جنس پر مبنی تھے، جس میں بھارتی پراکسی نیٹ ورکس سے منسلک دہشت گرد عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 29 جنوری 2026 کو پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی مصدقہ موجودگی کی اطلاعات پر فورسز نے بروقت کاروائی کی۔ ابتدائی مرحلے میں 41 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد ازاں مختلف علاقوں میں جاری سرچ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سیلز اور نیٹ ورکس کو تباہ کر دیا گیا۔
آپریشن کے دوران دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور ان کی عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ کاروائیوں میں غیر ملکی ساختہ جدید اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور جدید آلات بھی برآمد ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کو بیرونی سطح پر منظم مالی و لاجسٹک امداد حاصل تھی۔
دوسری جانب دہشت گردوں کی کاروائیوں میں 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، شہید ہو گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے وطن اور شہریوں کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آئی ایس پی آر نے ان کی بہادری اور غیر متزلزل عزم کو اعلیٰ عسکری روایات کا آئینہ دار قرار دیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ردّالفتنہ-1 بلوچستان میں بھارتی فتنہ پردازوں کی جانب سے امن و ترقی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ منصوبہ بندی، قابل عمل انٹیلی جنس اور مربوط کاروائیوں کے ذریعے پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام اٹھائے، جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔
پاک فوج کے مطابق حکومتِ پاکستان کے قومی عمل کے منصوبے کے تحت دہشت گردی کے ہر پہلو کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسداد دہشت گردی آپریشنز پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہیں گے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ آپریشن ردّالفتنہ-1 بلوچستان کے عوام کے امن، اتحاد اور ترقی کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں