ترکی نے افغان طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی سطح کم کرتے ہوئے کابل میں اپنی نمائندگی کا درجہ گھٹا دیا ہے، جسے ہیبت اللہ رجیم کے ساتھ بڑھتی ہوئی ناراضی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ کابل سے سفارتی ذرائع کے مطابق ترکی نے افغانستان میں اپنے سابق سفیر کی مدت مکمل ہونے کے بعد نیا سفیر تعینات نہیں کیا بلکہ سفارتی سطح کو کم کرتے ہوئے ناظم الامور مقرر کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترکی کے سابق سفیر چنک اونال کی مدت دسمبر 2025 میں ختم ہو گئی تھی، جن کی وطن واپسی کے بعد انقرہ نے کابل کے لیے نئے سفیر کی نامزدگی نہیں کی۔ اس کے بجائے ترکی کے سینئر سفارتکار سادین آئی یلدز کو کابل میں ناظم الامور مقرر کیا گیا ہے، جو سفارتی عرف میں سفیر کے مقابلے میں کم درجے کی نمائندگی تصور کی جاتی ہے۔
کابل سے موصول اطلاعات کے مطابق سادین آئی یلدز نے ایک روز قبل افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے ترکی کی جانب سے کابل میں سفارتی نمائندگی کی سطح کم کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد ترکی کم از کم دو مرتبہ کابل میں اپنے اعلیٰ سفارتی ایلچی کو تبدیل کر چکا ہے، تاہم اب سفیر کے بجائے ناظم الامور کی تعیناتی کو طالبان انتظامیہ کے ساتھ سفارتی روابط کی نسبتاً نچلی سطح کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں کے مطابق کسی ملک کی جانب سے سفیر کے بجائے ناظم الامور کی تعیناتی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ متعلقہ ریاست میزبان حکومت کے ساتھ مکمل سفارتی اعتماد یا سیاسی ہم آہنگی محسوس نہیں کر رہی، اور یہ قدم اکثر ناراضی یا تحفظات کے اظہار کے طور پر اٹھایا جاتا ہے۔
سادین آئی یلدز اس سے قبل قازقستان، نیدرلینڈز اور یوکرین میں ترکی کے قونصل جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں ایک تجربہ کار سفارتکار سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، کابل میں ان کی ناظم الامور کے طور پر تعیناتی ترکی اور طالبان حکومت کے تعلقات میں سرد مہری اور محتاط سفارتی رویے کی عکاس قرار دی جا رہی ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں حزب وحدتِ اسلامی میں بغاوت، محقق گروپ نے راہیں جدا کر لیں