آج جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے کے اہم ممالک کی شرکت سے ایک اہم معدنیات کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں امریکہ نے قیادت کرتے ہوئے بھارت، قازقستان، پاکستان اور ازبکستان کے ساتھ گہرے تعاون کے عزم ظاہر کیا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد محفوظ اور مضبوط سپلائی چینز تشکیل دینا اور خطے میں صنعتی پیداوار کو مستحکم بنانا تھا۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے ’بین الاقوامی منصوبہ برائے اہم معدنیات‘ کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شراکت دار ممالک اپنے اتحادیوں کے درمیان ایک تجارتی بلاک تشکیل دیں گے، جو امریکی صنعتی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنائے گا اور پورے خطے میں پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گا۔ یہ اقدام خطے میں اقتصادی و صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے کی امریکی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
Strong representation from countries in both South and Central Asia at today's critical minerals conference! The United States is leading the way and working closely with India, Kazakhstan, Pakistan, and Uzbekistan on creating more secure and resilient supply chains. https://t.co/HrfvTnMRKy
— Bureau of South and Central Asian Affairs (SCA) (@State_SCA) February 5, 2026
امریکہ کی جانب سے پاکستان کو اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ شامل کرنا واشنگٹن کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان اہم معدنیات کی سپلائی چینز میں ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ فریق ہے، نہ کہ محض ایک ثانوی کھلاڑی۔ پاکستان کو وسطی ایشیائی پیداوار کنندگان کے ساتھ شامل کرنا اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے، جو بطور رابطہ معیشت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور عالمی مارکیٹوں کو امریکی قیادت میں سپلائی چین کی مضبوطی کی کوششوں سے جوڑ رہا ہے۔
مارکو روبیو کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون پر زور دینا امریکی-پاکستانی تعلقات میں مستقل مصروفیت، اسٹریٹجک ہم آہنگی، اقتصادی تعاون اور طویل مدتی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جو محض وقتی مظاہروں پر مبنی نہیں۔ اس کانفرنس کے ذریعے پاکستان کی عالمی معدنیات کی سپلائی چین میں بڑھتی ہوئی اہمیت اور خطے میں کلیدی کردار واضح طور پر سامنے آیا ہے۔