افغانستان کے صوبہ نورستان میں ہونے والے بم دھماکے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جماعت الاحرار اور داعش سے وابستہ اہم کمانڈر برجان سواتی اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گیا، جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سینئر کمانڈر ملا برجان بھی شامل ہے، جس کا تعلق دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار سے تھا اور وہ ٹی ٹی پی کے اہم عسکری ڈھانچے کا حصہ رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ برجان سواتی کو ٹی ٹی پی کے 2023 اور 2024 کے کمانڈ اسٹرکچر میں نور ولی محسود کا نائب مقرر کیا گیا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں اسے تنظیم کے ساؤتھ زون کا سربراہ بنایا گیا۔
مزید انکشافات کے مطابق سال 2026 میں برجان سواتی کو ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش کے مشترکہ دہشت گردی نیٹ ورک میں ایک کلیدی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یہ نیٹ ورک افغان انٹیلی جنس ادارے جی ڈی آئی کی نگرانی میں سرگرم تھا اور خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا ہفتے کے روز اس وقت ہوا جب ایک گاڑی صوبہ نورستان کے ایک پہاڑی علاقے میں سفر کر رہی تھی۔ گاڑی کے قریب نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ سکیورٹی حکام کا خیال ہے کہ بم پہلے سے نصب تھا اور ممکنہ طور پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکا کیا گیا، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حملے کو دہشت گرد تنظیموں کے اندرونی اختلافات یا تنظیمی تصفیے سے بھی جوڑا جا رہا ہے، تاہم حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق برجان سواتی کی ہلاکت دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ سرحد پار دہشت گرد سرگرمیوں میں ایک اہم کردار ادا کر رہا تھا۔