اسلام آباد امام بارگاہ میں ہونے والے حالیہ حملے نے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے مربوط دہشت گردی کے مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی اور تربیت افغانستان میں کی گئی جبکہ ایک افغان نژاد غیر ملکی شہری کو کاروائی کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ پیش رفت اس دعوے سے متصادم ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
سہولت کار اور سرحد پار روابط
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ افغان نژاد سہولت کار کی گرفتاری کو اس بات کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے کہ افغان بنیادوں پر قائم نیٹ ورکس منصوبہ بندی اور تربیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہری اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والی کاروائیوں میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔
دہشت گرد تنظیمیں اور علاقائی خدشات
بین الاقوامی رپورٹس، بالخصوص اقوام متحدہ کی دستاویزات افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سکیورٹی حلقوں کے مطابق یہی عناصر افغانستان کو رابطے، منصوبہ بندی اور کاروائیوں کی تیاری کے مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان کی انسداد دہشت گردی یقین دہانیوں کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
#BREAKING The mastermind is an Afghan who has been caught. He is related to ISIS, and the suicide bomber was trained in Afghanistan.
— Mohsin Ali (@Mohsin_o2) February 7, 2026
Says Interior Minister Mohsin Naqvi pic.twitter.com/9wvTVBfuF9
مالی معاونت
پاکستانی حکام نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم بعض دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی معاونت حاصل ہے، جس میں بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور اہداف کے تعین کا دعویٰ شامل ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت میں اضافہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ کاروائیاں انفرادی نوعیت کی نہیں بلکہ منظم سرپرستی کے تحت کی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ بیانیے کو بعض بھارتی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فروغ ملنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور مسلسل انسداد دہشت گردی اقدامات کے ذریعے اس خطرے کو محدود رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد مسجد حملے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک بار پھر اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق خدشات کا مؤثر حل ناگزیر ہے۔