اقوامِ متحدہ کی ‘اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم’ کی 37 ویں جامع رپورٹ نے افغان طالبان کے ان تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے ‘تربیتی و عسکری مرکز’ بن چکا ہے، جہاں افغان عبوری حکومت تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کو دیگر تمام گروہوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آزادی، تحفظ اور تعاون فراہم کر رہی ہے۔ مذکورہ رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے طالبان کے اس موقف کی تائید نہیں کی کہ ان کی حدود میں دہشت گرد موجود نہیں، بلکہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی پاکستان اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
القاعدہ کا گٹھ جوڑ اور جدید اسلحہ
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القاعدہ بدستور افغان طالبان کی سرپرستی میں فعال ہے اور فتنہ الخوارج کو تربیت اور تزویراتی مشورے فراہم کرنے کے لیے ‘تربیتی معاون’ کے کردار ادا کر رہی ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم نے ٹی ٹی پی کی آپریشنل صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے خلاف وہ جدید ترین ہتھیار، نائٹ ویژن آلات، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز اور ڈرون سسٹمز استعمال کر رہا ہے جو عالمی اتحادی افواج افغانستان سے انخلاء کے وقت چھوڑ گئی تھیں۔ ان جدید ہتھیاروں نے ٹی ٹی پی کے حملوں کی ہلاکت خیزی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کی ایک مثال 11 نومبر کو اسلام آباد کی عدالت پر ہونے والا بزدلانہ حملہ ہے۔
نور ولی محسود کی حقیقت
رپورٹ کے ساتھ ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے مرکزی رہنماء نور ولی محسود کے حوالے سے بھی سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ نور ولی محسود ایک ‘جعلی مفتی’ ہیں اور ان کا کسی مستند دینی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ جامعہ دارالعلوم یسین القرآن ان کی تعلیمی اسناد کی منسوخی کا باضابطہ اعلان پہلے ہی کر چکا ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق نور ولی کے خاندان کا ماضی بھی داغدار ہے اور ان کے داد اپنے ہی لوگوں کے خلاف انگریزوں کی مخبری کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ مزید برآں حالیہ شواہد اور تصاویر نے ان پراپیگنڈا مہموں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جن میں دہشت گردوں کو ‘لاپتا افراد’ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ دہشت گرد کیمپوں میں بندوق اٹھائے تربیت لیتے پائے جاتے ہیں اور بعد ازاں سکیورٹی فورسز کے خلاف کاروائیوں میں ہلاک یا گرفتار ہوتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کی عالمی تائید
اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی عالمی سطح پر تائید ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تانے بانے براہِ راست افغان سرزمین سے ملتے ہیں۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ اب مصنوعی ذہانت اور تجارتی سیٹلائٹ مواصلاتی نظام جیسی جدید ٹیکنالوجی کو اپنے مذموم پراپیگنڈے اور رابطوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو عالمی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ چیلنج ہے۔
دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت