سعودی طیاروں نے بھی ایرانی وفد کو پاکستان تک محفوظ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔

April 10, 2026

بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

April 10, 2026

بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔

April 10, 2026

سعودی کمپنی آرامکو پاکستان میں 10 ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری کے منصوبے میں شراکت داری کرے گی، جس میں پاکستان اسٹیٹ آئل او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل شامل ہوں گی۔

April 10, 2026

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف عملے کو بحفاظت منتقل کیا بلکہ جہاز پر موجود ماہر ٹیم نے فوری طبی امداد فراہم کی اور آگ بجھانے میں بھی مدد دی۔

April 10, 2026

افغان میڈیا پر دہشت گردی کی پشت پناہی: عافیہ صدیقی کے نام پر امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب

افغان میڈیا پر دہشت گردی کی کھلی وکالت کرتے ہوئے تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ٹی ٹی پی اور شدت پسندوں کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب دے دی ہے
افغان میڈیا پر دہشت گردی کی کھلی وکالت کرتے ہوئے تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی نے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ٹی ٹی پی اور شدت پسندوں کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب دے دی ہے

افغان میڈیا میں عافیہ صدیقی کے نام پر امریکی شہریوں کے اغواء کی ترغیب دینے والے بیان نے کابل کے دہشت گردی مخالف دعوؤں اور عالمی سکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے

February 11, 2026

افغان چینل ‘طلوع نیوز’ پر نشر ہونے والے پروگرام میں افغان تجزیہ کار عبدالجبار سٹانکزئی کی جانب سے ٹی ٹی پی کو پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کو اغواء کرنے کی کھلم کھلا ترغیب دی گئی ہے۔ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے سے براہِ راست نشر ہونے والے اس بیان نے کابل کے ان دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ 16ویں اور 37ویں رپورٹس پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکی ہیں کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں جنہیں وہاں مکمل نقل و حرکت کی آزادی حاصل ہے۔ عبدالجبار سٹانکزئی کا یہ بیان، جس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اغواء کو بطور حربہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا، اسی خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں دہشت گردی سے منسلک تشدد کو عوامی سطح پر ایک جائز دباؤ کے آلے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر بیٹھ کر اس طرح کی اشتعال انگیز گفتگو اور طالبان حکام کی جانب سے اس پر کسی تادیبی کارروائی کا نہ ہونا، شدت پسندوں کے لیے ان کی خاموش حمایت اور رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں اور القاعدہ کے حمایتی نیٹ ورکس نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند بیانیے اور سرحد پار دہشت گردی کے ایجنڈے کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جب ایک ذمہ دار ہمسایہ بننے کے بجائے افغان میڈیا سے پڑوسی ممالک میں تخریب کاری اور اغوا کی کال دی جاتی ہے، تو اس سے ان عالمی خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ افغانستان اب بھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور معاونت کے لیے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے، جو کہ عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

دیکھیے: طالبان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد، افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ثابت

متعلقہ مضامین

سعودی طیاروں نے بھی ایرانی وفد کو پاکستان تک محفوظ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔

April 10, 2026

بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

April 10, 2026

بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔

April 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *