طالبان حکومت کے تناظر میں امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے افغانستان کو فراہم کی جانے والی انسانی امداد کی دہشت گرد گروہوں تک رسائی روکنے کے لیے ایک انقلابی قانون، “دہشت گردوں کے لیے عوامی ٹیکس کی ممانعت” منظور کر لیا ہے۔ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکی شہریوں کی ٹیکس شدہ رقم اور بین الاقوامی امدادی پروگرام، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر طالبان حکومت کے زیرِ اثر کام کرنے والی شدت پسند تنظیموں کی مالی تقویت کا باعث نہ بنیں۔
طالبان حکومت اور امدادی رقوم
سال 2021 میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی امداد موصول ہو رہی ہے۔ تاہم نگرانی کے شفاف طریقۂ کار کی عدم موجودگی کے باعث یہ سنگین خدشات پیدا ہوئے کہ کابل حکام امدادی رقوم پر ناجائز ٹیکس عائد کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات عالمی امدادی اداروں کی رپورٹس میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امدادی رقوم کو ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے حوالے کیا جاتا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
امریکی ادارے کی رپورٹ
دسمبر 2025 میں جاری ہونے والی افغانستان کی تعمیرِ نو سے متعلق امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کابل کے زوال کے بعد سے اب تک امریکہ نے مجموعی طور پر 4 ارب ڈالر فراہم کیے ہیں، جبکہ عالمی اداروں نے 8 ارب ڈالر اور ‘افغانستان لچکدار فنڈ’ نے 1.5 ارب ڈالر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کی ہے۔ ان خطیر رقوم کے باوجود، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ طالبان حکومت کے دور میں مالی شفافیت کے فقدان اور بدعنوانی کی شرح میں کمی نہیں آئی۔
شفافیت کا عالمی بحران
عالمی سطح پر شفافیت کے نگران ادارے نے سال 2025 کی فہرست میں افغانستان کو 182 ممالک میں سے 169 ویں نمبر پر رکھا ہے، جو امدادی فنڈز میں خورد برد کے الزامات کی تصدیق کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیموں نے بھی بارہا امدادی رقوم کے غیر قانونی استعمال اور ان کی دہشت گردوں تک ممکنہ رسائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی امداد دہندگان میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی خدشات
یہ قانون محض مالی نظم و ضبط تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے وسیع تر جغرافیائی و سیاسی پہلو بھی کارفرما ہیں۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلسل یہ معاملہ اٹھایا ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ 4 فروری 2026 کو جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی 37 ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی اس تلخ حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ کی کیفیت پیدا ہوئی۔
طالبان حکومت کے لیے مستقبل کے چیلنجز
ماہرین کا ماننا ہے کہ طالبان حکومت کے ساتھ ہر قسم کے روابط کو اب واضح اہداف اور تصدیق شدہ اقدامات سے مشروط کیا جانا چاہیے۔ اس نئے امریکی قانون کے تحت، اب امداد کی فراہمی صرف اسی صورت ممکن ہو سکے گی جب کابل حکام دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے خاتمے، ہمہ گیر سیاسی شمولیت، صنفی امتیاز کی بیخ کنی اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کا عملی ثبوت پیش کریں۔ یہ اقدامات نہ صرف افغانستان کی داخلی بہتری بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
دیکھیے: نئے قانون کا کمال ، جنسی بلیک میلنگ کا مجرم طالبان ضلعی گورنر گینگ سمیت بری