بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے نہ صرف ڈھاکہ کی داخلی سیاست بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال کو بھی نئی سمت دے دی ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی دو تہائی اکثریت سے کامیابی ایک فیصلہ کن سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ خارجہ پالیسی، علاقائی توازن اور نظریاتی ترجیحات میں ممکنہ تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔
بی این پی کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک عوامی لیگ کی قیادت میں بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہوئے تھا۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان سکیورٹی، تجارت، سرحدی انتظام اور علاقائی رابطہ کاری میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی۔ تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ اس قربت نے بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کو کسی حد تک ایک طرفہ بنا دیا تھا، جس کے باعث ملک کے اندر ایک طبقہ یہ محسوس کرتا رہا کہ قومی خودمختاری اور علاقائی توازن کے تقاضے پوری طرح ملحوظ نہیں رکھے گئے۔
بی این پی کی تاریخی طور پر پاکستان کے ساتھ نسبتاً بہتر روابط رہے ہیں، اگرچہ 1971 کی تاریخ اور اس کے بعد کے سیاسی بیانیے دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری کے آثار دکھائی دیے، خاص طور پر تجارتی اور سفارتی سطح پر۔ انتخابات کے فوری بعد پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے طارق رحمان کو مبارکباد اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ پاکستان کی جانب سے جمہوری شراکت داری اور مشترکہ ترقی پر زور دراصل خطے میں ایک نئے سفارتی توازن کی تلاش کا عکاس ہے۔
دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی فوری مبارکباد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ نئی دہلی بنگلہ دیش میں کسی بھی سیاسی تبدیلی کے باوجود اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ بھارت کے لیے بنگلہ دیش محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی، سکیورٹی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے بی این پی کی کامیابی کے باوجود نئی دہلی کی کوشش ہوگی کہ تعلقات میں تسلسل برقرار رہے اور کسی ممکنہ پالیسی تبدیلی سے اپنے مفادات کو محفوظ رکھا جائے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا بی این پی کی حکومت بھارت اور پاکستان کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ بنگلہ دیش کی جغرافیائی، اقتصادی اور سکیورٹی ضروریات اسے مکمل طور پر کسی ایک محور کی طرف جھکنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ گہرا تجارتی اور جغرافیائی انحصار ہے تو دوسری طرف مسلم دنیا اور پاکستان کے ساتھ تاریخی و ثقافتی روابط بھی موجود ہیں۔ ایک ذمہ دار خارجہ پالیسی کا تقاضا یہی ہوگا کہ ڈھاکہ خطے میں مسابقتی مفادات کے درمیان ایک متوازن اور خودمختار راستہ اختیار کرے۔
داخلی سطح پر بھی نئی حکومت کو کئی چیلنجز درپیش ہوں گے۔ انتخابی نتائج پر جماعت اسلامی اور دیگر حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات شفافیت کے تقاضوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اگر بی این پی واقعی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے تو اسے اس مینڈیٹ کو قومی مفاہمت، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی مضبوطی کے لیے استعمال کرنا ہوگا، نہ کہ سیاسی تقسیم کو گہرا کرنے کے لیے۔
جنوبی ایشیا اس وقت جغرافیائی سیاست، معاشی مسابقت اور سکیورٹی خدشات کے نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے فیصلے نہ صرف اس کے اپنے عوام بلکہ پورے خطے پر اثر انداز ہوں گے۔ اگر ڈھاکہ ایک متوازن، کثیر جہتی اور خودمختار خارجہ پالیسی اپناتا ہے تو وہ خطے میں استحکام کا عنصر بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر، بڑی طاقتوں کی کشمکش میں الجھ کر داخلی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کا اندیشہ بھی موجود رہے گا۔
بی این پی کی کامیابی ایک نئے باب کا آغاز ضرور ہے، مگر اس باب کی سمت کا تعین آنے والے فیصلے کریں گے۔ بنگلہ دیش کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔