"> فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی شراکت داری پر اتفاق
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے ملاقات، دفاعی شراکت داری پر اتفاق

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تزویراتی دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں تزویراتی دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان کی ملاقات۔ عالمی امن، سلامتی اور پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی تعلقات کی توثیق

February 13, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے سعودی عرب کے وزیرِ دفاع پرنس خالد بن سلمان نے ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ عسکری تعلقات اور تزویراتی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان نے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری کردہ اپنے بیان میں اس ملاقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ “پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کا بنیادی مقصد ہمارے مضبوط برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کی توثیق کرنا ہے۔”

علاقائی سلامتی

ملاقات کے دوران دونوں معزز شخصیات نے عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔ پرنس خالد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ گفتگو میں ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جو دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی خدمت کرتے ہوں اور خطے کے دفاعی حصار کو مزید مستحکم بنا سکیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورِ قیادت میں تزویراتی اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورِ قیادت میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی قربتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ تزویراتی دفاعی معاہدے کے تناظر میں اس ملاقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ محض روایتی رابطہ نہیں بلکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان ایک نئے دفاعی عہد کا آغاز ہے۔ اس بڑھتے ہوئے تعاون نے نہ صرف دوطرفہ عسکری رشتوں کو نئی جلا بخشی ہے بلکہ اسے خطے میں طاقت کے توازن اور مشترکہ دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

دیکھیے: افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ: پاکستان کے خلاف پراکسی وار کی نئی لہر

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *