اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ اثر جڑ پکڑتے دہشت گرد ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر متفقہ طور پر قرارداد 2816 (2026) منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کے تحت 1988 افغانستان سینکشن کمیٹی کی معاونت کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری تاحال افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔
مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، افغانستان اس وقت بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جہاں 20 سے زائد عالمی دہشت گرد تنظیمیں اور 13,000 سے زیادہ غیر ملکی عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ ان جائزوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ حکمرانی دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر چکے ہیں بلکہ وہ خطے میں عدم استحکام اور سرحد پار دہشت گردی کی کاروائیوں کو منظم کرنے میں بھی ملوث ہیں۔
UNSC unanimously adopts draft resolution renewing mandate of Monitoring Team supporting 1988 Afghanistan Sanctions Committee for twelve months@PakistanUN_NY #RadioPakistan #news https://t.co/sl5h0zcjZD
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) February 13, 2026
سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو فراہم کی جانے والی مبینہ حمایت اور پناہ گاہوں کے خاتمے تک خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ کی بار بار تجدید اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ طالبان عالمی سلامتی کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر ان کے خلاف مایوسی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
رکن ممالک نے متفقہ مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات ان شرائط سے مشروط ہونے چاہئیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی فوری ختم کریں، ملک میں جامع اور ہمہ گیر حکمرانی کو یقینی بنائیں، اور خواتین و بچیوں پر جاری انسانی حقوق کی پامالیاں بند کریں۔ کونسل نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کی ابتر صورتحال اور انتہا پسندی کا فروغ براہِ راست عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، جس کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں
دیکھیے: نور ولی محسود: فتنہ الخوارج کا سرغنہ اور اس کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف