"> افغانستان میں دہشت گرد ڈھانچے پر عالمی تشویش:
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سلامتی کونسل کی قرارداد 2816: افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات پر عالمی مہرِ تصدیق

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کرتے ہوئے مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں 12 ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو افغانستان میں جڑ پکڑتے دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی وعدہ خلافیوں پر عالمی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کرتے ہوئے مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں 12 ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو افغانستان میں جڑ پکڑتے دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی وعدہ خلافیوں پر عالمی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2816 کے تحت مانیٹرنگ ٹیم کی تجدید؛ افغانستان میں 20 بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، طالبان کی سفارتی تنہائی اور عالمی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات

February 13, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان کے زیرِ اثر جڑ پکڑتے دہشت گرد ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر متفقہ طور پر قرارداد 2816 (2026) منظور کر لی ہے۔ اس قرارداد کے تحت 1988 افغانستان سینکشن کمیٹی کی معاونت کرنے والی مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں مزید 12 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری تاحال افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات پر شدید تحفظات رکھتی ہے۔

مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، افغانستان اس وقت بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جہاں 20 سے زائد عالمی دہشت گرد تنظیمیں اور 13,000 سے زیادہ غیر ملکی عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ ان جائزوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے زیرِ حکمرانی دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر چکے ہیں بلکہ وہ خطے میں عدم استحکام اور سرحد پار دہشت گردی کی کاروائیوں کو منظم کرنے میں بھی ملوث ہیں۔

سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کو فراہم کی جانے والی مبینہ حمایت اور پناہ گاہوں کے خاتمے تک خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں ہے۔ مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ کی بار بار تجدید اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ طالبان عالمی سلامتی کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر ان کے خلاف مایوسی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رکن ممالک نے متفقہ مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات ان شرائط سے مشروط ہونے چاہئیں کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی فوری ختم کریں، ملک میں جامع اور ہمہ گیر حکمرانی کو یقینی بنائیں، اور خواتین و بچیوں پر جاری انسانی حقوق کی پامالیاں بند کریں۔ کونسل نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کی ابتر صورتحال اور انتہا پسندی کا فروغ براہِ راست عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، جس کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں

دیکھیے: نور ولی محسود: فتنہ الخوارج کا سرغنہ اور اس کی جعلی ڈگریوں کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *