"> افغانستان میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اور عالمی تحفظات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اور عالمی تحفظات

افغانستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی رہائش کی منظوری دے دی ہے، تاہم ملک میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور پاکستان پر سرحد پار حملوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو غیر یقینی بنا دیا ہے
افغانستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی رہائش کی منظوری دے دی ہے، تاہم ملک میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور پاکستان پر سرحد پار حملوں نے سرمایہ کاری کے ماحول کو غیر یقینی بنا دیا ہے

افغانستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے 1 سے 10 سال کے رہائشی اجازت نامے منظور کیے، تاہم جاری سکیورٹی خدشات، بین الاقوامی پابندیاں اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سرمایہ کاری کے ماحول کو خطرے میں ڈال رہی ہے

February 15, 2026

امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک سے دس سال تک کے رہائشی اجازت نامے دینے کا منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کی زیرِ صدارت اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں اس فیصلے کی توثیق کی گئی، جس کے تحت ایک خصوصی کمیٹی سرمایہ کاری کے حجم کی بنیاد پر رہائش کی مدت کا تعین کرے گی۔ تاہم ماہرین اس اقدام کو افغانستان میں موجود ابتر سکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی تنہائی کے تناظر میں غیر مؤثر قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ افغانستان تاحال 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی کے عناصر کی جانب سے پاکستان پر ہونے والے سرحد پار حملوں نے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں اور سی ایس ٹی او کی جانب سے سرحدی نفری میں اضافہ بھی ان خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک ٹی ٹی پی، داعش (خراسان) اور القاعدہ جیسے گروہوں کے بنیادی ڈھانچے کو قابلِ تصدیق طور پر ختم نہیں کیا جاتا، محض رہائشی مراعات طویل مدتی سرمایہ کاری پیدا کرنے میں ناکام رہیں گی۔ چینی شہریوں اور علاقائی منصوبوں پر ہونے والے حملے اس خطرناک سیکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جو غیر ملکیوں کے لیے تاحال برقرار ہے۔

مزید برآں بین الاقوامی پابندیاں، انسانی حقوق پر قدغنیں اور حکومتی ڈھانچے میں شمولیت کی کمی جیسے عوامل افغانستان کی سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

دیکھیے: یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ،

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *