امارتِ اسلامیہ افغانستان نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک سے دس سال تک کے رہائشی اجازت نامے دینے کا منصوبہ منظور کر لیا ہے۔ نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر کی زیرِ صدارت اقتصادی کمیشن کے اجلاس میں اس فیصلے کی توثیق کی گئی، جس کے تحت ایک خصوصی کمیٹی سرمایہ کاری کے حجم کی بنیاد پر رہائش کی مدت کا تعین کرے گی۔ تاہم ماہرین اس اقدام کو افغانستان میں موجود ابتر سکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی تنہائی کے تناظر میں غیر مؤثر قرار دے رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ افغانستان تاحال 20 سے زائد بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی کے عناصر کی جانب سے پاکستان پر ہونے والے سرحد پار حملوں نے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں اور سی ایس ٹی او کی جانب سے سرحدی نفری میں اضافہ بھی ان خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔
The Islamic Emirate of Afghanistan has approved a plan to grant foreign investors residency permits ranging from one to ten years in exchange for investment in the country.
— Ariana News (@ArianaNews_) February 7, 2026
The decision was endorsed during a regular meeting of the Economic Commission, chaired by Deputy Prime… pic.twitter.com/qsNpzaAfr7
معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک ٹی ٹی پی، داعش (خراسان) اور القاعدہ جیسے گروہوں کے بنیادی ڈھانچے کو قابلِ تصدیق طور پر ختم نہیں کیا جاتا، محض رہائشی مراعات طویل مدتی سرمایہ کاری پیدا کرنے میں ناکام رہیں گی۔ چینی شہریوں اور علاقائی منصوبوں پر ہونے والے حملے اس خطرناک سیکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جو غیر ملکیوں کے لیے تاحال برقرار ہے۔
مزید برآں بین الاقوامی پابندیاں، انسانی حقوق پر قدغنیں اور حکومتی ڈھانچے میں شمولیت کی کمی جیسے عوامل افغانستان کی سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔