فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی رہنماء اور ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے فلسطین کے معاملے پر پاکستان کے سفارتی کردار اور اصولی مؤقف پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور عوام کے اقدامات کو فلسطینی سیاسی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالد قدومی کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری نسل کشی کی مہم کو روکنے کے لیے جنگ بندی بین الاقوامی ذمہ داری کا تقاضا ہے، تاہم اسرائیل مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے امن کے امکانات کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ انہوں نے ‘غزہ پیس بورڈ’ میں شامل اسلامی ممالک سے کہا کہ وہ ان سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور صیہونی حملے رکوانے کے لیے اپنا بھرپور اثر و رسوخ استعمال کریں۔ حماس کے رہنماء نے اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ غزہ میں ایسے امریکی بم استعمال کیے گئے جن کی حرارت سے انسانی لاشیں فضاء میں تحلیل ہو گئیں، جس کے باعث شہداء کی اصل تعداد دو لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ڈاکٹر خالد قدومی کا یہ بیان عالمی سطح پر اسلام آباد کی ساکھ اور فلسطینی سیاسی قیادت میں پاکستان کی سفارتی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان مسلسل اس موقف پر قائم ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ اور شہریوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔ پاکستان نے پیس بورڈ میں شمولیت کے ذریعے ایک بار پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک ایسی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا جس کا دارالحکومت ‘القدس الشریف’ ہو۔