"> افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کے بیانیے اور عالمی رپورٹس میں تضاد
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان سرزمین اور علاقائی سکیورٹی: طالبان کا بیانیہ اور اس کی حقیقت

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں
ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان پر پابندیوں کو ناجائز قرار دیا ہے، تاہم اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور ٹی ٹی پی کے سرحد پار حملے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں

سکیورٹی ماہرین کے مطابق افغانستان سے دہشت گردی برآمد ہو رہی ہے، اور دہشت گرد نیٹ ورک کا خاتمہ اور شفافیت کے بغیر عالمی تنہائی ختم نہیں ہو سکتی

February 15, 2026

امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں افغانستان پر عائد عالمی پابندیوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے علاقائی عدم استحکام میں افغان سرزمین کے استعمال کی تردید کی ہے، تاہم عالمی مبصرین اور سکیورٹی ماہرین ان دعوؤں کو زمینی حقائق کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات اور روس کی جانب سے ملنے والی وارننگز کو نظرانداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سرحدی کشیدگی کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

عالمی اداروں اور اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق طالبان پر عائد پابندیاں سیاسی نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود فعال دہشت گرد ڈھانچے سے جڑی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 13 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جو طالبان کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر حاصل ترجیحی رسائی اور وہاں سے پاکستان پر ہونے والے 600 سے زائد دستاویزی سرحد پار حملوں نے ذبیح اللہ مجاہد کے “استحکام” کے دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات کو نظرانداز کرنا ان دستاویزی شواہد کو جھٹلانے کے مترادف ہے جن کے مطابق ٹی ٹی پی افغان علاقے میں 58 سے زائد مقامات پر فعال ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی بندش اور دہشت گرد ٹھکانوں پر کاروائی دراصل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر سکیورٹی اقدامات تھے۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستوں اور سی ایس ٹی او کی جانب سے سرحدی نفری میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی محدود ہونے کے بجائے برآمد ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک دہشت گرد نیٹ ورکس کا قابلِ تصدیق خاتمہ، مالی شفافیت اور انسانی حقوق کی تعمیل نہیں ہوتی، تب تک عالمی تنہائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔

دیکھیے: افغانستان میں سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رہائش کی پیشکش اور عالمی تحفظات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *