جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے پشاور میں چیف خطیب محمد طیب قریشی سے ملاقات کی جس میں بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر جرمن سفیر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ مذہبی رواداری اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ تعریف ہے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان ایک ایسی مشترکہ قوم ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے لوگ اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ جرمن سفیر نے کہا کہ ایسے اقدامات جو معاشرے میں اشتراکِ حیات، امن اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں، مستقبل میں بھی پاکستان کو مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی معاشرہ بنانے میں مدد دیں گے۔
موقع پر چیف خطیب محمد طیب قریشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اتحاد و اتفاق، محبت اور بھائی چارے کے لیے کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ ہمارے معاشرتی اصولوں اور آئینی اقدار کا حصہ ہے، اور ہمیں اپنے مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
جرمنی کی سفیر نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے اقدامات کو سراہا جاتا ہے جن سے مذہبی آزادی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن اور رواداری کا یہ جذبہ ہر سطح پر مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی ایک پرامن اور احترام پر مبنی معاشرے میں زندگی گزار سکیں۔
یہ ملاقات اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی شراکت دار مذہبی رواداری، مذہبی آزادی اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف داخلی استحکام، بلکہ علاقائی امن میں بھی مدد ملتی ہے۔
پاکستان کی اس مثبت کوشش کو جرمنی کی جانب سے سراہا جانا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تصویر کو ایک پرامن اور رواداری کے حامی ملک کے طور پر مزید مستحکم کرتا ہے۔