"> جرمنی کا پاکستان کی بین المسالک ہم آہنگی کی کوششوں کو خراجِ تحسین
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جرمنی کا پاکستان کی بین المسالک ہم آہنگی کی کوششوں کو خراجِ تحسین

جرمنی کا پاکستان کی بین المسالک ہم آہنگی کی کوششوں کو خراجِ تحسین

جرمنی کی سفیر نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے اقدامات کو سراہا جاتا ہے جن سے مذہبی آزادی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔

February 16, 2026

جرمنی کی سفیر اینا لیپل نے پشاور میں چیف خطیب محمد طیب قریشی سے ملاقات کی جس میں بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر جرمن سفیر نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ مذہبی رواداری اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ تعریف ہے۔

ملاقات میں دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان ایک ایسی مشترکہ قوم ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کے لوگ اتحاد اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ جرمن سفیر نے کہا کہ ایسے اقدامات جو معاشرے میں اشتراکِ حیات، امن اور رواداری کو فروغ دیتے ہیں، مستقبل میں بھی پاکستان کو مضبوط اور باہمی احترام پر مبنی معاشرہ بنانے میں مدد دیں گے۔

موقع پر چیف خطیب محمد طیب قریشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اتحاد و اتفاق، محبت اور بھائی چارے کے لیے کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ ہمارے معاشرتی اصولوں اور آئینی اقدار کا حصہ ہے، اور ہمیں اپنے مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

جرمنی کی سفیر نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کی کوششوں کی قدر کرتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے اقدامات کو سراہا جاتا ہے جن سے مذہبی آزادی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امن اور رواداری کا یہ جذبہ ہر سطح پر مضبوط کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی ایک پرامن اور احترام پر مبنی معاشرے میں زندگی گزار سکیں۔

یہ ملاقات اس عزم کا مظہر ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی شراکت دار مذہبی رواداری، مذہبی آزادی اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں مشترکہ کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف داخلی استحکام، بلکہ علاقائی امن میں بھی مدد ملتی ہے۔

پاکستان کی اس مثبت کوشش کو جرمنی کی جانب سے سراہا جانا بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی تصویر کو ایک پرامن اور رواداری کے حامی ملک کے طور پر مزید مستحکم کرتا ہے۔

دیکھیے: ڈنمارک میں بلوچ برادری سے ملاقات: انوار الحق کاکڑ کا افغان صورتحال پر اظہارِ خیال

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *