یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں شدید غذائی قلت کے موسم سے قبل ہی 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 37 لاکھ بچوں کو سنگین غذائی بحران کا سامنا ہے۔

July 14, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

July 14, 2026

راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کے حملے اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید ہو گیا ہے۔

July 14, 2026

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن شعبان کے دوران تازہ کارروائیوں میں مزید دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد ہلاک خارجیوں کی مجموعی تعداد 121 ہو گئی ہے۔

July 14, 2026

آزاد کشمیر حکومت نے ایکشن کمیٹی کے مقدمات کی واپسی کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ملزمان کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔

July 14, 2026

افغانستان کے صوبے نورستان میں نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے مبینہ مشترکہ اڈے پر حملے اور 5 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

July 14, 2026

افغانستان عالمی دہشت گردی کا گڑھ، ٹی ٹی پی کو طالبان کی مکمل پشت پناہی حاصل: اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہوں کو نہ صرف پناہ دے رہی ہے بلکہ انہیں جدید اسلحہ اور سرکاری سفری دستاویزات بھی فراہم کی جا رہی ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے

اقوام متحدہ کی 37 ویں مانیٹرنگ رپورٹ کی تفصیلی اشاعت: افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی تنظیمِ نو، ٹی ٹی پی کو حاصل طالبان کی سرپرستی اور پاکستان کی سلامتی پر اس کے اثرات کا جامع احوال

February 16, 2026

اقوام متحدہ کی ‘اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم’ کی 37 ویں رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی آمد کے بعد سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی کاروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے یہ دعوے کہ افغان سرزمین پر کوئی دہشت گرد موجود نہیں، حقائق کے برعکس اور عالمی برادری کو دھوکی دینے کے مترادف ہے۔

طالبان کی سرپرستی

رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں موجود سب سے بڑے اور خطرناک گروہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یو این مانیٹرنگ ٹیم کے مطابق طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں سرکاری سطح پر ‘اجازت نامے’ اور ‘سفری دستاویزات’ بھی جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کورٹ پر ہونے والا خودکش حملہ، جس میں 12 قیمتی لوگ جاں بحق ہوئے، اسی نیٹ ورک کی افغان سرزمین سے کی جانے والی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔

جدید اسلحہ اور بلیک مارکیٹ
ایک تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ انخلاء کے وقت چھوڑے گئے جدید امریکی اسلحے اور بلیک مارکیٹ سے حاصل کردہ فوجی ساز و سامان نے ٹی ٹی پی کی مہلک صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس اسلحے کی بدولت ٹی ٹی پی اب پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف زیادہ دہشت گردانہ اور خونی حملے کرنے کے قابل ہو چکی ہے۔

القاعدہ اور داعش کا بڑھتا ہوا نیٹ ورک
رپورٹ کے مطابق القاعدہ تاحال طالبان کی سرپرستی میں فعال ہے اور ٹی ٹی پی کے لیے ‘ٹریننگ ماسٹر’ اور مربی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ القاعدہ برصغیر کے امیر اسامہ محمود اور نائب امیر یحییٰ غوری کابل میں مقیم ہیں، جو جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورک کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان نے بھی شمالی افغانستان اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں اپنی آپریشنل صلاحیتیں برقرار رکھی ہیں، جو سرحد پار حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وسطی ایشیا اور چین کے لیے خطرات
رپورٹ میں تحریکِ اسلامی مشرقی ترکستان اور اسلامی تحریکِ ترکستان نامی شدت پسند تنظیم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بدخشاں کے علاقے میں ان کے کیمپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان نے ان کے تقریباً 250 ارکان کو باقاعدہ اپنی پولیس فورس میں شامل کر لیا ہے، جو نہ صرف انہیں قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی فنڈنگ کے لیے خشخاش کی کاشت اور کان کنی جیسے ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے واقعات کے باعث کشیدگی عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رپورٹ عالمی سطح پر طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگی۔

دیکھیے: ٹی ٹی پی کا منحرف ارکان کو قتل کرنے کا حکم

متعلقہ مضامین

یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں شدید غذائی قلت کے موسم سے قبل ہی 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 37 لاکھ بچوں کو سنگین غذائی بحران کا سامنا ہے۔

July 14, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

July 14, 2026

راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کے حملے اور اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار شہید ہو گیا ہے۔

July 14, 2026

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن شعبان کے دوران تازہ کارروائیوں میں مزید دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد ہلاک خارجیوں کی مجموعی تعداد 121 ہو گئی ہے۔

July 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *