پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ احتجاج اور دھرنوں کے باعث وفاقی دارالحکومت سمیت خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں، جس پر شہریوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں پیش آنے والے احتجاجی واقعات کے بعد پولیس نے سات اراکینِ پارلیمنٹ سمیت 55 افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ مظاہرین کو علاقہ خالی کرنے کی بارہا ہدایت کی گئی، تاہم مزاحمت اور اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے گرفتار شدہ چار افراد کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت نے بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خدشات کو بنیاد بنا کر احتجاجی سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے عام شہریوں، بالخصوص مریضوں اور طلبہ کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کو ملانے والی اہم شاہراہوں کی بندش سے ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہو گئی ہے اور گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ عوامی حلقوں نے سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس تعطل پر گہری تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر، مریضوں کو مشکلات کا سامنا، شہریوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آگیا۔ pic.twitter.com/cKzsmYcqiz
— HTN Urdu (@htnurdu) February 17, 2026
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی سیاست کے ذریعے عوام کو یرغمال بنانے کے بجائے سیاسی مسائل کا حل پارلیمان کے اندر تلاش کیا جانا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ خلیج نہ صرف شہری زندگی کو مفلوج کر رہی ہے بلکہ ملکی معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔