نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

February 17, 2026

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

February 17, 2026

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

February 17, 2026

مزید برآں، منگل کو مختلف پینلز میں شرکت کرنے والے بعض مقررین کو تاحال اپنے سیشنز اور ایجنڈے کی باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی تھی، جس سے ایونٹ کی پیشہ ورانہ تیاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

February 17, 2026

انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔

February 17, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان ورک فورس تعاون نہ صرف اقتصادی مفادات کا حامل ہے بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اور نتیجہ خیز شراکت داری کی بنیاد بھی بن سکتا ہے، جو مستقبل کی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

February 17, 2026

اکتوبر میں پاک افغان کشیدگی کے دوران سرحد پار جانے والے تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی؛ افغان حکومت کی جانب سے رمضان کو بھی اپنے سیاسی بیانیے کیلئے استعمال کرنے پر ماہرین کی تنقید

نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔
اکتوبر میں پاک افغان کشیدگی کے دوران سرحد پار جانے والے تین پاکستانی فوجیوں کی رہائی؛ افغان حکومت کی جانب سے رمضان کے ماہ مقدس کو بھی اپنے سیاسی بیانیے کیلئے استعمال کرنے پر ماہرین کی تنقید

کچھ مبصرین نے افغان فورسز کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مہینوں کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں، خصوصاً ایسی حکومت کے لیے جو خود کو اسلامی ریاست قرار دیتی ہو۔

February 17, 2026

افغان حکام نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی درخواست اور رمضان المبارک کے احترام میں اکتوبر 2025 کی سرحدی کشیدگی کے دوران پکڑے گئے تین پاکستانی فوجیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ افغان حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق یہ فیصلہ “اسلامی امارت افغانستان” کی اس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ رمضان المبارک، جو رحمت اور مغفرت کا مہینہ ہے، کی آمد کے پیشِ نظر اور برادر ملک سعودی عرب کی درخواست کے مثبت جواب میں ان اہلکاروں کو کابل آنے والے سعودی وفد کے حوالے کیا گیا۔ افغان مؤقف کے مطابق یہ اقدام خیر سگالی اور سفارتی روابط کے فروغ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ماہرین نے اس پیش رفت پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل اور دشوار گزار سرحدوں پر جھڑپوں کے دوران اہلکاروں کا سرحد پار چلے جانا یا حراست میں لیا جانا کوئی غیر معمولی امر نہیں، اور ماضی میں بھی ایسے تبادلے خاموش سفارتی رابطوں کے ذریعے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس معاملے کو غیر معمولی انداز میں پیش کرنا اور اسے مذہبی مہینے کے ساتھ جوڑ کر نمایاں کرنا سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔

کچھ مبصرین نے افغان فورسز کے طرزِ عمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقدس مہینوں کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں، خصوصاً ایسی حکومت کے لیے جو خود کو اسلامی ریاست قرار دیتی ہو۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کے معاملات کو کم پروفائل سفارتی چینلز کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا تاکہ غیر ضروری تشہیر سے گریز کیا جا سکے۔

ایک تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ “سرحدی علاقوں میں ایسے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن انہیں داخلی مقبولیت یا سیاسی فائدے کے لیے نمایاں کرنا ایک نیا رجحان ہے۔” انہوں نے ساتھ ہی سعودی عرب کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریاض کا کردار دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ رہائی کے عمل کو جس انداز میں پیش کیا گیا، وہ کسی باقاعدہ ریاستی طرزِ عمل سے زیادہ مسلح تنظیموں کی تشہیری حکمتِ عملی سے مشابہت رکھتا ہے۔ نقاب پوش وردی میں ملبوس افراد کی جانب سے تحائف دیتے ہوئے مناظر جاری کرنا اور اس عمل کو نمایاں انداز میں پیش کرنا، بعض مبصرین کے نزدیک القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے پروپیگنڈا طریقۂ کار کی یاد دلاتا ہے، جہاں قیدیوں کے تبادلے کو علامتی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دکھایا جاتا رہا ہے۔

ان کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں بچھڑ جانے والے اہلکاروں کو “قیدی” قرار دے کر پیش کرنا اور اس پر سیاسی بیانیہ تشکیل دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طرزِ حکمرانی اب بھی ایک منظم ریاست کے بجائے ایک مسلح گروہ جیسا ہے، جو سفارتی معاملات کو بھی داخلی تشہیر اور نظریاتی امیج سازی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

February 17, 2026

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

February 17, 2026

مزید برآں، منگل کو مختلف پینلز میں شرکت کرنے والے بعض مقررین کو تاحال اپنے سیشنز اور ایجنڈے کی باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی تھی، جس سے ایونٹ کی پیشہ ورانہ تیاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

February 17, 2026

انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔

February 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *