امریکی جریدے دی فارن پالیسی نے وادیٔ چناب میں بھارت کی جارحانہ ڈیم سازی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین اثرات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ترقی کے بھارتی دعوؤں کی حقیقت پسندی پر بڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وادیٔ چناب میں جاری سات پن بجلی منصوبوں نے نہ صرف مقامی ماحولیات کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ بیس ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرتے ہوئے انہیں نقل مکانی اور معاشی بدحالی پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جسے بھارت صاف توانائی کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہ درحقیقت ایک حساس پہاڑی خطے پر بھاری کنکریٹ بوجھ اور بالائی انجینئرنگ ہے، جس کی قیمت مقامی آبادی اپنے گھروں کی تباہی اور صحت کے بحران کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔ پہاڑوں میں ہونے والے طاقتور دھماکوں نے مکانات کی ساخت کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور قدرتی چشمے خشک ہونے سے زراعت اور آبپاشی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زلزلہ خیز فالٹ لائنز پر واقع اس نازک جغرافیائی خطے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن کر زیریں علاقوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔
تزویراتی طور پر یہ منصوبے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ کو محدود کرنے اور اسے ایک “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارت انہیں ‘رَن آف ریور’ منصوبے قرار دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اور بھاری کنکریٹ ڈھانچے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ سندھ طاس کی روح کے منافی ایک منظم بالادستی کی کوشش ہے۔ معاہدہ سندھ طاس کا بنیادی مقصد پانی کی منصفانہ تقسیم اور دریائی نظام کا استحکام تھا، نہ کہ اسے بالائی ریاست کی جانب سے سیاسی و تزویراتی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا۔
پاکستان کا مؤقف اس ضمن میں واضح ہے کہ مشترکہ دریاؤں پر کوئی بھی یکطرفہ تعمیرات جو ماحولیاتی اور انسانی تحفظ کو نظر انداز کریں، ناقابلِ قبول ہیں۔ دریائے چناب کروڑوں انسانوں کی زندگی کا محور ہے اور اس کے قدرتی بہاؤ میں مداخلت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فارن پالیسی کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ بھارت کی اس “ماحولیاتی جارحیت” کا نوٹس لے، جو ترقی کے لبادے میں ایک پورے خطے کو انسانی اور جغرافیائی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔