"> چناب پر بھارتی ڈیم سازی: فارن پالیسی نے ترقی کے نام پر تباہی بے نقاب کر دی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ اور چناب کا تنازع، بھارتی تعمیرات پر عالمی سطح پر تشویش

امریکی جریدے ‘فارن پالیسی’ نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے
امریکی جریدے 'فارن پالیسی' نے وادیٔ چناب میں بھارتی ڈیم سازی کے تباہ کن اثرات بے نقاب کر دیے، جس سے بیس ہزار سے زائد مقامی آبادی کی بے دخلی اور ماحولیاتی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

وادیٔ چناب میں بھارت کے سات پن بجلی منصوبوں نے انسانی زندگیوں اور قدرتی نظام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ فارن پالیسی کی رپورٹ کے مطابق گھروں میں دراڑیں، چشموں کا خشک ہونا اور زلزلہ خیز خطے میں کنکریٹ کی بھاری تعمیرات ایک بڑے انسانی و جغرافیائی حادثے کا پیش خیمہ ہیں

February 17, 2026

امریکی جریدے دی فارن پالیسی نے وادیٔ چناب میں بھارت کی جارحانہ ڈیم سازی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین اثرات پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ترقی کے بھارتی دعوؤں کی حقیقت پسندی پر بڑے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وادیٔ چناب میں جاری سات پن بجلی منصوبوں نے نہ صرف مقامی ماحولیات کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ بیس ہزار سے زائد افراد کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرتے ہوئے انہیں نقل مکانی اور معاشی بدحالی پر مجبور کر دیا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جسے بھارت صاف توانائی کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہ درحقیقت ایک حساس پہاڑی خطے پر بھاری کنکریٹ بوجھ اور بالائی انجینئرنگ ہے، جس کی قیمت مقامی آبادی اپنے گھروں کی تباہی اور صحت کے بحران کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔ پہاڑوں میں ہونے والے طاقتور دھماکوں نے مکانات کی ساخت کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر اور قدرتی چشمے خشک ہونے سے زراعت اور آبپاشی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زلزلہ خیز فالٹ لائنز پر واقع اس نازک جغرافیائی خطے میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن کر زیریں علاقوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں۔

تزویراتی طور پر یہ منصوبے دریائے چناب کے قدرتی بہاؤ کو محدود کرنے اور اسے ایک “ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنے کی بھارتی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارت انہیں ‘رَن آف ریور’ منصوبے قرار دیتا ہے، مگر زمینی حقائق اور بھاری کنکریٹ ڈھانچے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ سندھ طاس کی روح کے منافی ایک منظم بالادستی کی کوشش ہے۔ معاہدہ سندھ طاس کا بنیادی مقصد پانی کی منصفانہ تقسیم اور دریائی نظام کا استحکام تھا، نہ کہ اسے بالائی ریاست کی جانب سے سیاسی و تزویراتی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا۔

پاکستان کا مؤقف اس ضمن میں واضح ہے کہ مشترکہ دریاؤں پر کوئی بھی یکطرفہ تعمیرات جو ماحولیاتی اور انسانی تحفظ کو نظر انداز کریں، ناقابلِ قبول ہیں۔ دریائے چناب کروڑوں انسانوں کی زندگی کا محور ہے اور اس کے قدرتی بہاؤ میں مداخلت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فارن پالیسی کی یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ بھارت کی اس “ماحولیاتی جارحیت” کا نوٹس لے، جو ترقی کے لبادے میں ایک پورے خطے کو انسانی اور جغرافیائی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *