"> احتجاج کے نام پر اپنا ہی صوبہ بند کردیا، اب بالکل ایسا نہیں چلے گا؛ سلمان اکرم راجہ کی صوبائی حکومت پر تنقید - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

احتجاج کے نام پر اپنا ہی صوبہ بند کردیا، اب بالکل ایسا نہیں چلے گا؛ سلمان اکرم راجہ کی صوبائی حکومت پر تنقید

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”
احتجاج کے نام پر اپنا ہی صوبہ بند کردیا، اب بالکل ایسا نہیں چلے گا؛ سلمان اکرم راجہ کی صوبائی حکومت پر تنقید

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور آئینی معاملات کو سنجیدگی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔

February 17, 2026

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین سے بطور وکیل ہدایات لینا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جس سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا۔

راولپنڈی میں بیرسٹر گوہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ آج انہیں بطور وکیل ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ پارٹی کے متعدد مقدمات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص کے خلاف درجنوں مقدمات چلائے جائیں مگر اس کے وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہ دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف اختیار کرنا کہ بانی چیئرمین کی فیملی ملاقات کے بعد سیاسی گفتگو نہیں کرے گی، سراسر غیر آئینی ہے۔ ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کا حق ہے کہ وہ اپنی فیملی سے ملاقات کریں اور بات کریں، اور فیملی کا بھی حق ہے کہ وہ ملاقات کے بعد حقائق سے آگاہ کرے۔ “کسی کو بات کرنے سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،” انہوں نے کہا۔

طبی معائنے کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ نے وضاحت کی کہ پارٹی نے معائنے میں شریک نہ ہو کر کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ شریک ہوتے تو اس عمل کو سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شفافیت کا تقاضا تھا کہ معائنے کے وقت فیملی ممبر یا ذاتی معالج کو موجود ہونے دیا جاتا۔ “ہم خانہ پُری کے لیے طبی معائنے میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے،” انہوں نے کہا۔

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے بھی بانی چیئرمین سے ملاقات نہ ہونے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ قانونی تقاضوں کے مطابق وکلاء کو رسائی ملنی چاہیے۔

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ پارٹی کی کوئی بیک ڈور بات چیت نہیں چل رہی۔ “جو بھی بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی،” انہوں نے کہا، اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسی خفیہ مفاہمت کی کوشش جاری ہے۔

دوسری جانب بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی سیاست کے نام پر اپنے ہی صوبے کو بند کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “احتجاج_کی_سیاست کے تحت خود ہی صوبہ بند کر دینا مسائل کا حل نہیں، ایسے نہیں چلے گا۔”

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور آئینی معاملات کو سنجیدگی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جانا چاہیے تاکہ جمہوری عمل اور عوامی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *