نائب وزیرِاعظم اسحق ڈار 18 فروری کو نیویارک کا اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں فلسطین کی صورتحال پر منعقدہ اعلیٰ سطحی بریفنگ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ہے۔ اس اہم اجلاس کی صدارت برطانیہ کی وزیرِ خارجہ کریں گی، جو اس وقت سکیورٹی کونسل کی صدارتی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔
اسرائیلی توسیع پسندی کی مذمت
دورانِ بریفنگ اسحق ڈار اسرائیل کے ان حالیہ غیر قانونی فیصلوں کی شدید مخالفت کریں گے جن کا مقصد مغربی کنارے پر غاصبانہ کنٹرول بڑھانا ہے۔ پاکستان ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جی) کی مشاورتی رائے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ وزیرِ خارجہ واضح کریں گے کہ غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور زمینوں پر قبضہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
جنگ بندی اور تعمیرِ نو
پاکستان کی جانب سے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ دہرایا جائے گا۔ وزیرِ خارجہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کریں گے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور غزہ کی جلد بحالی و تعمیرِ نو کا عمل شروع ہو سکے۔
🔊PR No.4️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) February 17, 2026
Curtain Raiser: Deputy Prime Minister and Foreign Minister’s Official Visit to New York, 18 February 2026
🔗⬇️https://t.co/rPtNs0617o pic.twitter.com/jGVVGC3JIf
فلسطینی ریاست اور عالمی شراکت داری
پاکستان اپنے اس اصولی مؤقف کی تصدیق کرے گا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ اس مقصد کے لیے پاکستان آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے گروپ سمیت امریکہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
دو طرفہ ملاقاتیں
نیویارک میں قیام کے دوران ڈپٹی وزیراعظم عالمی رہنماؤں اور اپنے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔