"> صحت کے نام پر سیاست: ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی کا احتجاج بلاجواز قرار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عمران خان کی صحت پر سیاست؛ ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی کے باوجود پی ٹی آئی کا احتجاج بلاجواز قرار

حکومت کی جانب سے عمران خان کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم کی تشکیل اور ان کے اپنے نامزد کردہ ڈاکٹر کی شمولیت کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے احتجاج اور دھرنے ریاست کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش ہے
حکومت کی جانب سے عمران خان کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم کی تشکیل اور ان کے اپنے نامزد کردہ ڈاکٹر کی شمولیت کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے احتجاج اور دھرنے ریاست کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش ہے

ماہر ڈاکٹرز اور عدالتی شفافیت کے باوجود پی ٹی آئی کارکنان کا دھرنا اور سڑکوں کی بندش عوام کے لیے وبالِ جان بن گئی

February 18, 2026

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر ملک گیر احتجاج اور اداروں کے خلاف مہم جوئی پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی مبصرین اور حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ کسی فرد یا وردی کا نہیں بلکہ خالصتاً قانون کی برتری کا ہے، جہاں پی ٹی آئی ‘ایک نہیں، دو پاکستان’ کا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے۔

طبی معائنے کی حقیقت اور تضادات
حکومتی ذرائع کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی کے معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم بنائی گئی، جس میں ان کے اپنے تجویز کردہ ڈاکٹر ندیم قریشی بھی شامل کیے گئے تھے۔ بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے بھی اعتراف کیا کہ ڈاکٹر ندیم قریشی انہیں مسلسل بریف کرتے رہے۔ جب میڈیکل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہونی ہے، تو اس کے باوجود پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بے چینی اور شکوک و شبہات پیدا کرنا محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔

عوام دشمن اقدامات اور قیادت
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان نے دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے ذریعے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ شفیع جان، مینا خان اور شاہد خٹک جیسے خیبر پختونخوا کے لیڈرز اور ایڈوائزرز کی نگرانی میں ہونے والے ان اقدامات کی وجہ سے ایمبولینسیں رکی رہیں اور مریض دم توڑتے رہے۔ ٹرانسپورٹ کی معطلی نے عام آدمی کو معاشی اور ذہنی طور پر مفلوج کر دیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ احتجاج ‘حقوق’ کے لیے نہیں بلکہ ‘سیاست’ کے لیے ہے۔

ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ
آئی جی خیبر پختونخوا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آئی جی کو ہدایات پشاور ہائی کورٹ نے جاری کیں، اس کے باوجود فوج کو بیچ میں گھسیٹ کر بیانیہ بنانا عدلیہ پر دباؤ ڈالنے اور من پسند فیصلے حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

دو ٹوک پیغام
حکومتی موؤف واضح ہے کہ صحت کے نام پر سیاست کی قیمت اب عام پاکستانی ادا نہیں کرے گا۔ قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور جذباتی نعروں یا سڑکوں کی بندش کے ذریعے ریاست کو یرغمال بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔

دیکھیے: شخصیت پرستی نے سیاسی جماعت کو ریاست مخالف گروہ میں بدل دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *