"> شخصیت پرستی نے سیاسی جماعت کو ریاست مخالف گروہ میں بدل دیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پی ٹی آئی کا ‘اینٹی اسٹیٹ’ بیانیہ: کارکنان ریاست مخالف گروہ میں تبدیل

پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے
پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے اپنے لیڈر کی اندھی تقلید میں ریاست، اداروں اور ملکی معیشت کے خلاف جاری مہم نے سیاسی احتجاج اور بغاوت کے درمیان لکیر ختم کر دی ہے

پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خطوط لکھنے، عالمی پابندیوں کی اپیل اور سوشل میڈیا پر بھارت و افغان بیانیے کی حمایت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ گروہ سیاسی جماعت کے بجائے ایک ریاست مخالف جتھے کی شکل اختیار کر رہا ہے

February 18, 2026

پی ٹی آئی کے اندر پروان چڑھنے والی انتہاء پسندانہ شخصیت پرستی نے اب باقاعدہ ایک ریاست مخالف رُخ اختیار کر لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں اور عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے لیڈر کے اقتدار کی ہوس میں ملکی سالمیت اور معاشی استحکام کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔

پی ٹی آئی کارکنان کا کردار
رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان اس حد تک ‘سیاسی اندھے پن’ کا شکار ہو چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کی ریاست اور اس کے دفاعی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ “خان نہیں تو پاکستان نہیں” جیسا فتنہ انگیز نعرہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں ملک کی بقا کو ایک فردِ واحد سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے کارکنان اب منظم گروہ کی صورت میں ریاست کے ستونوں کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

معاشی دہشت گردی
پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنوں کا سب سے شرمناک فعل آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کو خطوط لکھ کر پاکستان کو دیوالیہ بنانے کی سازش کرنا ہے۔ اپنے ہی ملک کو کمزور کرنے کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک اقتدار کے حصول کے لیے پاکستان کی معاشی تباہی بھی ایک جائز راستہ ہے۔

بھارتی اور افغان بیانیے کی پشت پناہی
سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا طرزِ عمل ملک دشمنی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ڈیجیٹل محاذ پر یہ کارکنان بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور افغان مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر اپنے ہی ملک اور فوج کے خلاف مہم جوئی کرتے پائے گئے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے کارکنان اب محض ایک سیاسی جماعت کا حصہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو چکے ہیں جو دشمن کے ایجنڈے کو تقویت پہنچا رہا ہے۔

حالیہ احتجاجی مظاہرے

پی ٹی آئی کے حالیہ احتجاجی مظاہروں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت کے کارکنان سیاسی احتجاج کی آڑ میں ریاست کو یرغمال بنانے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ پرامن احتجاج کے بجائے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کرنا اور شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ان مظاہروں کے دوران جس طرح منظم طریقے سے شرپسندی پھیلائی گئی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا گیا، اس سے واضح ہوتا ہے کہ کارکنوں کی تربیت سیاسی بنیادوں کے بجائے اشتعال انگیزی اور انتشار پر کی گئی ہے۔

یہ مظاہرے محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ریاست کے خلاف ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، جس کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کر کے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کرنا ہے۔ لہذا اسکا کا فوری اور سخت محاسبہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دیکھیے: احتجاج کے نام پر اپنا ہی صوبہ بند کردیا، اب بالکل ایسا نہیں چلے گا؛ سلمان اکرم راجہ کی صوبائی حکومت پر تنقید

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *