وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی، جو دونوں برادر ممالک کے مابین برسوں سے جاری رقابت کے بجائے قرابت کی جانب کا واضح اشارہ ہے۔ یہ دورہ اس وقت تاریخی بن گیا جب ڈھاکہ کی سڑکوں پر عام شہریوں، بالخصوص نوجوانوں نے پاکستانی وفد کا والہانہ استقبال کیا۔
عوامی جوش اور محبت کے مناظر
احسن اقبال نے اپنے تاثرات میں بتایا کہ ڈھاکہ کی سڑکوں پر جمہوری تبدیلی کا جشن مناتے نوجوانوں کے چہروں پر امید کی کرن واضح تھی۔ انہوں نے خصوصی طور پر اس لمحے کا ذکر کیا جب پاکستانی پرچم لگی گاڑی کو دیکھ کر وہاں کے نوجوانوں نے بے ساختہ اپنائیت اور محبت کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق، یہ خلوص اس بات کی گواہی ہے کہ دونوں ممالک کا مستقبل ماضی کے تلخ سائے میں نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مشترکہ خوابوں میں پوشیدہ ہے۔
آج ڈھاکہ میں نو منتخب وزیر اعظم طارق رحمان اور ان کی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے نیک تمنائیں اور دوطرفہ تعلقات کو ہر شعبے میں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 🇵🇰🇧🇩
— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) February 17, 2026
ایک نئے باب… pic.twitter.com/YF2sVMG0Ej
اعلیٰ سطحی ملاقاتیں
بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان سے دورانِ ملاقات احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے محبت بھرا پیغام پہنچایا اور انہیں دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔ ملاقات میں تجارت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو حتمی شکل دی گئی۔ احسن اقبال نے قائدِ حزبِ اختلاف اور امیرِ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان سے بھی ملاقات کی، جس میں انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور اور لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی یادیں تازہ کیں۔
بیگم خالدہ ضیاء کو خراجِ عقیدت
بنگلہ دیش کے دورے کے دوران احسن اقبال نے سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیاء کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بیگم خالدہ ضیاء کی سیاسی میراث آج ان کے صاحبزادے کی کامیابی کی صورت میں ایک نئے جمہوری دور کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔
تعلیمی اور ثقافتی روابط
تعلیمی سطح پر ‘بنگلہ دیش۔ پاکستان نالج کاریڈور’ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان ریسرچ اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ ڈھاکہ میں شایانِ شان طریقے سے منانے اور وہاں اقبال اکیڈمی کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جسے انتہائی پذیرائی ملی۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش اب ‘جیو پولیٹکس’ کی جگہ ‘جیو اکنامکس’ کو اہمیت دے رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت اور جنوبی ایشیا میں معاشی استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے، تاکہ خطے کے عوام کی تقدیر بدلی جا سکے۔