افغان طالبان کے مختلف دھڑوں اور شخصیات کے درمیان کشیدگی کے پراکسی جنگ کی صورت اختیار کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حقانی اور قندھاری دونوں بڑے دھڑوں کے حامی دہشت گرد گروپس نے ایک دوسرے کو جنگ اور قتل کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایک جانب افغانستان میں جی ڈی آئی کی قیادت میں تمام دہشت گرد تنظیموں پر مشتمل مشترکہ دہشت گرد فورس قائم کر دی گئی ہے تو دوسری جانب دہشت گردوں کے درمیان بنتے بگڑتے اتحاد پورے خطے کے لیے نئی خانہ جنگی کی وارننگ بن چکے ہیں۔ دہشت گردوں کی نئی صف بندی اور ایک دوسرے کے خلاف اعلانات دراصل افغان طالبان کے مختلف دھڑوں اور شخصیات کے درمیان پراکسی وار ہے۔
سورسز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی بارڈر کے ساتھ مغربی افغانستان میں دہشت تنظیموں کی نئی صف بندی باہمی قتل و غارت کی صورت اختیار کر رہی ہے، جنہیں افغان حکومت کے بعض عناصر پراکسیز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ سورسز کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی اور جی ڈی آئی سے رجسٹرڈ داعش گروپوں کے درمیان تعاون کے مقابلے میں ایک دوسرا اتحاد تیزی سے سامنے آیا ہے، جس میں اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) کو القاعدہ برصغیر نے اپنے نیٹ ورک کے حصے کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا دہشت گرد دھڑا جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی کے سیاسی ونگ کا سربراہ پرانا دہشت گرد مولوی فقیر محمد بھی ٹی ٹی پی کو چھوڑ کر اس اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ القاعدہ برصغیر کی جانب سے آئی ایم پی کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے لیے 15 فروری کو کیے گئے اعلان کے بعد جماعت الاحرار نے اپنے 17 فروری کے اعلامیے میں کہا ہے کہ وہ گل بہادر اور لشکر اسلام کو دشمن خیال نہیں کرتے۔
سورس کا دعویٰ ہے کہ اس وقت جب یہ اسٹوری فائل کی جا رہی ہے، جماعت الاحرار کا سربراہ عمر مکرم خراسانی خوست میں ایک خفیہ مقام پر گل بہادر سے مذاکرات میں مصروف ہے۔ اسی سورس کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ برصغیر، جس نے اپنے جریدے ’’غزوہ ہند‘‘ کے تازہ شمارے میں جاری کردہ ایک انفوگراف میں اتحاد المجاہدین (IMP) کی پاکستان میں دہشت گردی کو اپنی ذیلی تنظیم کی کارروائیوں کے طور پر شامل کیا تھا، بعد ازاں 15 فروری کو القاعدہ برصغیر نے اپنے آفیشل میڈیا الصباح سے باقاعدہ طور پر آئی ایم پی کو اپنے ذیلی نیٹ ورک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
القاعدہ برصغیر نے اپنے نیٹ ورک میں جن دیگر تنظیموں کے نام شامل کیے ہیں، ان میں صومالیہ میں الشباب اور جے این آئی ایم بھی شامل ہیں۔ 15 فروری کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس کی ذیلی تنظیموں کا یہ نیٹ ورک نظریاتی ہم آہنگی کا اظہار نہیں بلکہ مشترکہ مقاصد اور دہشت گردی میں باہمی تعاون پر مشتمل ہے۔ اتحاد المجاہدین پاکستان کے نام سے دہشت گردوں کا اتحاد اپریل 2025 میں قائم کیا گیا تھا، جس میں حافظ گل بہادر گروپ، لشکر اسلام اور ایک نئی دہشت گرد تنظیم حرکۃ انقلاب اسلامی پاکستان شامل ہیں۔ حرکۃ انقلاب اسلامی پاکستان بنیادی طور پر القاعدہ اور داعش سے منسلک پاکستانی دہشت گردوں کا ایک گروپ تھا، جو داعش کے معروف دہشت گرد غازی شہاب الدین کی قیادت میں مارچ 2025 میں سامنے آیا تھا، جس میں کمانڈر محمد عاصم عرف ابو عثمان، راشد علی باجوڑی عرف ابو محمد اور ڈاکٹر عمر حیدر عرف ڈاکٹر صاحب اور کمانڈر فریاد اورکزئی شامل تھے۔
اس دہشت گرد گروپ کی اس وقت کل تعداد 40 سے 50 کے درمیان تھی، اور ان میں اورکزئی اور باجوڑ کے وہ دہشت گرد شامل تھے جو ایمن الظواہری کے یہاں قیام کے دوران حنفی سے سلفی ہوئے اور بعض القاعدہ اور بعض داعش میں چلے گئے، اور بعد میں الگ ہو گئے تھے۔ آئی ایم پی نامی اس دہشت گردوں کے اتحاد کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اسے ٹی ٹی پی کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ اب ایک جانب القاعدہ برصغیر اس اتحاد کو اپنا چکی ہے تو دوسری جانب جماعت الاحرار بھی ان کے قریب آ چکی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق ٹی ٹی پی کا اہم لیڈر مولوی فقیر محمد بھی ٹی ٹی پی سے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے، وہ بھی آئی ایم پی کے ساتھ اتحاد کر کے القاعدہ برصغیر کے ساتھ شامل ہونا چاہتا ہے۔ آئی ایم پی نے اپنے میڈیا ونگ کا نام “صدائے غزوۃ الہند” رکھا ہے جبکہ ترجمان محمود الحسن نامی دہشت گرد ہے، جس کا تعلق گل بہادر گروپ سے ہے۔
اس نئی صف بندی کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے مخالف دہشت گرد گروپوں کو غدار قرار دے کر ان کے لوگوں کے قتل کا اعلان ایک نئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماضی میں یہ دہشت گرد تنظیمیں خفیہ طور پر ایک دوسرے کے قتل میں ملوث رہی ہیں، لیکن تسلیم نہیں کرتی تھیں، لیکن اب ٹی ٹی پی نے کھل کر مخالفین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ جو بھی اسے چھوڑ کر جائے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔ دو روز قبل ٹی ٹی پی کے نائب امیر مفتی برجان نے اپنی صفوں سے علیحدگی اختیار کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ‘قتل کا حکم’ جاری کرتے ہوئے انہیں نام نہاد جہاد کے راستے میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔ افغانستان کے صوبہ کنہڑ میں اپنے جنگجوؤں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مفتی برجان نے واضح کیا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت نے ایک نیا فتویٰ جاری کیا ہے، جس کے تحت تنظیم کے نظم و ضبط سے ہٹ کر کسی بھی دوسرے گروہ کے ساتھ کام کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جو بھی متوازی نظام قائم کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔ مفتی برجان نے اپنے خطاب میں ‘جماعت الاحرار’ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ‘فسادی’ گروہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ جماعت الاحرار نے قبائلی علاقوں میں فساد پھیلایا ہے اور اب وہ ان کے نام نہاد جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں، لہٰذا ان کا قتل شرعی طور پر روا ہے۔ سورسز کے مطابق ٹی ٹی پی اس سے قبل القاعدہ برصغیر کے خلاف بھی اسی نوعیت کا فتویٰ جاری کر چکی ہے۔ ٹی ٹی پی کے نائب امیر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حال ہی میں حافظ گل بہادر گروپ میں شامل ہونے والے متعدد افراد کو تنظیم کی جانب سے عبرت کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی قسم کی علیحدہ سرگرمی یا الگ ڈھانچہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
سورسز کے مطابق ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ فتویٰ اور بیانات تنظیم کے اندر بڑھتے ہوئے شدید انتشار اور مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان وسائل اور اثر و رسوخ کی جنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال باجوڑ اور سوات جیسے علاقوں سے نئے گروپس کی جماعت الاحرار میں شمولیت اور القاعدہ برصغیر کے آئی ایم پی کے ساتھ اتحاد کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس نے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے لیے بقا کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ سورسز کے مطابق 12 فروری کو وزیرستان میں کھانے میں زہر دے کر جس ٹی ٹی پی دہشت گرد عطاء اللہ کو ہلاک کیا گیا تھا، ٹی ٹی پی نے تسلیم کیا ہے کہ اسے بھی نور ولی کے حکم پر زہر دیا گیا تھا۔ اسی طرح شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مارے جانے والے دہشت گرد رحیم شاہ کو بھی ٹی ٹی پی نے قتل کیا تھا۔ دوسری جانب گل بہادر گروپ اور جماعت الاحرار نے بھی ٹی ٹی پی کے خلاف جوابی کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ سورس کا دعویٰ ہے کہ دونوں دہشت گرد گروہوں کو افغان انٹیلی جنس اور افغان طالبان قیادت کے مختلف لیڈروں کی سرپرستی حاصل ہے، اور یہ صورتحال افغانستان میں خانہ جنگی کا آغاز بن سکتی ہے۔ جماعت الاحرار کے ترجمان اسد منصور نے جوابی بیان میں انتباہ کیا ہے کہ ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ اس نے الزام لگایا کہ جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی کو بھی نور ولی نے قتل کروایا تھا۔
اسی بیان میں اس نے حافظ گل بہادر، القاعدہ یا لشکر اسلام سمیت کسی بھی گروہ سے ذاتی اختلاف نہ ہونے کا اعلان کیا اور ٹی ٹی پی کو وارننگ دی کہ اس نے ان کے خلاف کئی سازشیں اور اقدامات کیے ہیں، تاہم ان تمام زیادتیوں کے باوجود انہوں نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ کسی بھی فتویٰ یا دھمکی سے اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگرچہ وہ جنگ اور تصادم نہیں چاہتے، لیکن اگر ان کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو وہ جواب دینے سے گریز نہیں کریں گے۔‘‘
سورسز کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردوں کی نئی گروپنگ اور ایک دوسرے کے خلاف اعلانات دراصل افغان طالبان کے مختلف دھڑوں اور شخصیات کے درمیان پراکسی وار ہے، جس میں دونوں بڑے دھڑے خود سامنے آنے کے بجائے اپنے حامی دہشت گردوں کے ذریعے مغربی افغانستان میں پاکستان سرحد کے قریب اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سورسز کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی اور داعش کے جی ڈی آئی سے رجسٹرڈ گروپ کا اتحاد ثابت کرتا ہے کہ یہ دھڑا قندھاریوں کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے، جبکہ گل بہادر کے حقانیوں کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔