تحریکِ طالبان پاکستان جو کہ روایتی طور پر پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقوں تک محدود خیال کی جاتی تھی، اب ایک بین الاقوامی باغی نیٹ ورک کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اس تنظیم کے لیے ایک اہم بھرتی راہداری کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں سے نوجوانوں کو نظریاتی اور لاجسٹک بنیادوں پر مسلح جدوجہد کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
2007 میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں قائم ہونے والی اس تنظیم نے 2021 میں افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے بعد اپنی تنظیمی ساخت کو مزید مستحکم کیا۔ بنگلہ دیش میں حالیہ برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام، جیلوں سے فرار کے واقعات اور اسلحے کی لوٹ مار نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس کا فائدہ انتہا پسند عناصر نے اٹھایا۔ مقامی عسکری تنظیموں جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) اور انصار الاسلام نے ٹی ٹی پی کے لیے فکری زمین ہموار کرنے میں معاونت فراہم کی ہے۔
بھرتی کا یہ عمل تین بنیادی چیزوں پر استوار ہے: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے انتہاء پسند نظریات کی ترویج، مذہبی سرپرستی اور مزدور ہجرت کے لبادے میں سرحد پار نقل و حرکت۔ ٹیلی گرام اور واٹس ایپ جیسے خفیہ ذرائع کے ذریعے بنگالی زبان میں مواد تیار کر کے نوجوانوں کو راغب کیا جاتا ہے، جبکہ عمران حیدر جیسے مبینہ سہولت کار ان بھرتی شدگان کو ٹی ٹی پی کی مرکزی کمان سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو اکثر روزگار یا عمرہ کی ادائیگی کے بہانے بھارت، خلیجی ممالک اور افغانستان کے راستے پاکستان کے شورش زدہ علاقوں، بالخصوص شمالی وزیرستان تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان بھرتی لوگوں کی فعال جنگی کاروائیوں میں شمولیت کے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال بنگلہ دیش کے لیے داخلی سلامتی اور پاکستان کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔