پاکستان نے باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

February 19, 2026

امریکی سفارت کار ڈان براؤن نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان قیدیوں کو بین الاقوامی مذاکرات میں بطور سیاسی مہرہ استعمال کر رہے ہیں اور عالمی برادری اس کا نوٹس لے

February 19, 2026

پی ٹی آئی کی 13 سالہ صوبائی حکومت اور وفاقی دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک منظم جماعت کے بجائے مفاد پرستوں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا ہے جو اب احتساب سے بچنے کے لیے انتشار کا سہارا لے رہی ہے

February 19, 2026

2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

February 19, 2026

سیاست بہت ظالم چیز ہوتی ہے۔ طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں بھائی بہن سیاسی حریف بن جاتے ہیں۔ قیدی کی رہائی میں رکاوٹ اس کے گھر سے ڈالی جاتی ہے کیونکہ قیدی کے مسلسل قید رہنے کی صورت میں وراثت بہنوں کے نام ہو گی۔ یہ بات لکھ لیجیے کہ  رہائی اور شہرت کی اس جنگ میں بہن کا ووٹ شہرت کے حق میں لگتا ہے کیونکہ اس شہرت کی وارث مستقبل میں علیمہ خان کو بننا ہے۔

February 19, 2026

افغان حکومت نے تبلیغی جماعت کو براہِ راست سرکاری نگرانی میں لیتے ہوئے اس کی آزادانہ سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کا مقصد مذہبی اداروں پر ریاستی عملداری کو مکمل طور پر نافذ کرنا ہے

February 19, 2026

باجوڑ حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج

پاکستان نے باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
پاکستان نے باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

باجوڑ دہشت گرد حملے کے بعد وزارتِ خارجہ کا افغان ناظم الامور کو ڈیمارش۔ پاکستان نے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی قیادت کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا

February 19, 2026

وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو طلب کر کے باجوڑ میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے پر باضابطہ احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) ریکارڈ کرایا ہے۔ اس حملے میں پاک فوج کے 11 جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ ‎ کا کہنا ہے کہ اسلام اباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے 16 فروری 2026 کو باجوڑ میں پیش آنے والے حملے کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) پہنچایا۔ جمعرات کو ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ “اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے”۔ ترجمان ‎طاہر اندارابی کے بیان کے مطابق “پاکستان نے ‎باجوڑ میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملے، جس کے بعد مسلح فائرنگ کی کاروائی بھی کی گئی، کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی جس کی قیادت ‎افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہے۔ اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو افغان عبوری حکومت کی جانب سے متعدد مواقع پر یقین دہانیاں موصول ہوئیں، تاہم ان کے باوجود کوئی نمایاں، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔ بیان کے مطابق “افغان حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات یقینی بنائے”۔ مزید برآں “افغان حکومت کو دو ٹوک انداز میں مطلع کیا گیا کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جہاں کہیں بھی وہ موجود ہوں، کاروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔”

پاکستانی حکام نے افغان انتظامیہ سے شدید مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ ڈیمارش میں واضح کیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار نقل و حرکت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور قیادت کے خلاف مؤثر کاروائی کو یقینی بنائیں۔

دیکھیے: باجوڑ میں ایف سی و پولیس چیک پوسٹ پر خودکش دھماکہ، تیرہ افراد شہید ہو گئے

متعلقہ مضامین

امریکی سفارت کار ڈان براؤن نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان قیدیوں کو بین الاقوامی مذاکرات میں بطور سیاسی مہرہ استعمال کر رہے ہیں اور عالمی برادری اس کا نوٹس لے

February 19, 2026

پی ٹی آئی کی 13 سالہ صوبائی حکومت اور وفاقی دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک منظم جماعت کے بجائے مفاد پرستوں کا ٹولہ قرار دے دیا گیا ہے جو اب احتساب سے بچنے کے لیے انتشار کا سہارا لے رہی ہے

February 19, 2026

2024 میں بنگلہ دیش کے سیاسی بحران، جیلوں سے قیدیوں کے فرار اور اسلحے کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جس سے انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود شدت پسند تنظیمیں، جیسے جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی)، حرکت الجہاد الاسلامی بنگلہ دیش (ہوجی-بی) اور انصار الاسلام، ایک نظریاتی ماحول فراہم کرتی رہی ہیں جس میں بیرونی گروہوں کے لیے جڑیں مضبوط کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

February 19, 2026

سیاست بہت ظالم چیز ہوتی ہے۔ طاقت اور اقتدار کے اس کھیل میں بھائی بہن سیاسی حریف بن جاتے ہیں۔ قیدی کی رہائی میں رکاوٹ اس کے گھر سے ڈالی جاتی ہے کیونکہ قیدی کے مسلسل قید رہنے کی صورت میں وراثت بہنوں کے نام ہو گی۔ یہ بات لکھ لیجیے کہ  رہائی اور شہرت کی اس جنگ میں بہن کا ووٹ شہرت کے حق میں لگتا ہے کیونکہ اس شہرت کی وارث مستقبل میں علیمہ خان کو بننا ہے۔

February 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *