"> باجوڑ میں 11 فوجیوں کی شہادت پر شدید احتجاج
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

باجوڑ حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج

پاکستان نے باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
پاکستان نے باجوڑ حملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

باجوڑ دہشت گرد حملے کے بعد وزارتِ خارجہ کا افغان ناظم الامور کو ڈیمارش۔ پاکستان نے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی قیادت کی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا

February 19, 2026

وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو طلب کر کے باجوڑ میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے پر باضابطہ احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) ریکارڈ کرایا ہے۔ اس حملے میں پاک فوج کے 11 جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ ‎ کا کہنا ہے کہ اسلام اباد میں افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے 16 فروری 2026 کو باجوڑ میں پیش آنے والے حملے کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) پہنچایا۔ جمعرات کو ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ “اس دہشت گرد حملے کے نتیجے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے”۔ ترجمان ‎طاہر اندارابی کے بیان کے مطابق “پاکستان نے ‎باجوڑ میں پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملے، جس کے بعد مسلح فائرنگ کی کاروائی بھی کی گئی، کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی جس کی قیادت ‎افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک سرگرمِ عمل ہے۔ اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کو افغان عبوری حکومت کی جانب سے متعدد مواقع پر یقین دہانیاں موصول ہوئیں، تاہم ان کے باوجود کوئی نمایاں، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔ بیان کے مطابق “افغان حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات یقینی بنائے”۔ مزید برآں “افغان حکومت کو دو ٹوک انداز میں مطلع کیا گیا کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جہاں کہیں بھی وہ موجود ہوں، کاروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔”

پاکستانی حکام نے افغان انتظامیہ سے شدید مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ ڈیمارش میں واضح کیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار نقل و حرکت علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور قیادت کے خلاف مؤثر کاروائی کو یقینی بنائیں۔

دیکھیے: باجوڑ میں ایف سی و پولیس چیک پوسٹ پر خودکش دھماکہ، تیرہ افراد شہید ہو گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *