بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے اور قندھار کی اجارہ داری کے خلاف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی قیادت میں مسلح بغاوت شروع ہو گئی ہے اور وزیر دفاع ملا یعقوب کی ثالثی بھی ناکام ہو چکی ہے۔

July 7, 2026

کابل میں ٹی ٹی پی کے مارے گئے دہشت گرد کے جنازے کے دوران طالبان نواز عالم نے پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کی ہے، جس پر ‘یوناما’ کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

July 7, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف امراللہ صالح کے پاکستان مخالف بیان کو ماہرین نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور بھارت نوازی کی کوشش قرار دیا ہے۔

July 7, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق شام میں کریک ڈاؤن کے بعد غیر ملکی دہشت گرد تیزی سے افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک نیا تزویراتی خطرہ ہے۔

July 6, 2026

لاہور کونسل آف کمپلینٹس نے جیو ٹی وی نشریات بحالی کیس میں مذہبی علامات کے استعمال کا معاملہ شرعی رائے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

July 6, 2026

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔

February 20, 2026

کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کی قیادت نے ایک نیا 90 صفحات پر مشتمل تعزیری ضابطہ نافذ کیا ہے، جس پر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط بتائے جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ضابطے میں شوہر کو بیوی کی مبینہ “نافرمانی” پر تادیبی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ جسم پر ہڈی ٹوٹنے یا کھلے زخم جیسے نمایاں نشانات نہ ہوں۔ حد سے تجاوز کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی طلبہ کو جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم شدید جسمانی نقصان کی صورت میں کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔ دسمبر 2021 میں خواتین کے لیے طویل فاصلے کے سفر کو محرم کے بغیر ممنوع قرار دیا گیا، جبکہ 2022 میں پارکس، جم اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی محدود کی گئی۔ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کی ملازمت پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ان تازہ رپورٹس پر عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور امدادی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق اور سماجی شرکت پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم طالبان حکام کی جانب سے ان دفعات کی باضابطہ تفصیل اور وضاحت کے منتظر ہیں، اور معاملہ تاحال بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔

متعلقہ مضامین

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر قبضے اور قندھار کی اجارہ داری کے خلاف طالبان کمانڈر جمعہ خان فتح کی قیادت میں مسلح بغاوت شروع ہو گئی ہے اور وزیر دفاع ملا یعقوب کی ثالثی بھی ناکام ہو چکی ہے۔

July 7, 2026

کابل میں ٹی ٹی پی کے مارے گئے دہشت گرد کے جنازے کے دوران طالبان نواز عالم نے پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کی ہے، جس پر ‘یوناما’ کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

July 7, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف امراللہ صالح کے پاکستان مخالف بیان کو ماہرین نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور بھارت نوازی کی کوشش قرار دیا ہے۔

July 7, 2026

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق شام میں کریک ڈاؤن کے بعد غیر ملکی دہشت گرد تیزی سے افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک نیا تزویراتی خطرہ ہے۔

July 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *