رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

February 20, 2026

عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔

February 19, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے کردار کا عملی اعتراف ہے، خاص طور پر علاقائی استحکام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کے تناظر میں۔ ماضی میں پاکستان کی اہمیت کا ذکر زیادہ تر بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ استقبال کو عملی طور پر اس کی اہمیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

February 19, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہے۔ آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘

February 19, 2026

حکام کے مطابق ایپل اس سے قبل انڈونیشیا، ملیشیا اور انڈیا میں بھی اسی ماڈل پر کام کر چکی ہے، جہاں ابتدا پرانے فونز کی مرمت سے کی گئی اور بعد ازاں مقامی مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ہوئی۔

February 19, 2026

نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔

February 20, 2026

کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کی قیادت نے ایک نیا 90 صفحات پر مشتمل تعزیری ضابطہ نافذ کیا ہے، جس پر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط بتائے جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ضابطے میں شوہر کو بیوی کی مبینہ “نافرمانی” پر تادیبی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ جسم پر ہڈی ٹوٹنے یا کھلے زخم جیسے نمایاں نشانات نہ ہوں۔ حد سے تجاوز کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی طلبہ کو جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم شدید جسمانی نقصان کی صورت میں کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔ دسمبر 2021 میں خواتین کے لیے طویل فاصلے کے سفر کو محرم کے بغیر ممنوع قرار دیا گیا، جبکہ 2022 میں پارکس، جم اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی محدود کی گئی۔ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کی ملازمت پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ان تازہ رپورٹس پر عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور امدادی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق اور سماجی شرکت پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم طالبان حکام کی جانب سے ان دفعات کی باضابطہ تفصیل اور وضاحت کے منتظر ہیں، اور معاملہ تاحال بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔

متعلقہ مضامین

عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔

February 19, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے کردار کا عملی اعتراف ہے، خاص طور پر علاقائی استحکام، دہشت گردی کے خلاف تعاون، اقتصادی روابط اور بدلتی ہوئی عالمی صف بندی کے تناظر میں۔ ماضی میں پاکستان کی اہمیت کا ذکر زیادہ تر بیانات تک محدود سمجھا جاتا تھا، تاہم حالیہ استقبال کو عملی طور پر اس کی اہمیت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

February 19, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ ’وزیر اعظم شریف۔۔۔ مجھے یہ آدمی پسند ہے۔ آپ کے فیلڈ مارشل بھی بہترین آدمی ہیں۔ فیلڈ مارشل سخت جان اور اچھے جنگجو ہیں اور میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘

February 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *