چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

July 3, 2026

نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
نیا تعزیری قانون: طالبان کی جانب سے خواتین سے متعلق سخت دفعات پر عالمی تشویش

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔

February 20, 2026

کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کی قیادت نے ایک نیا 90 صفحات پر مشتمل تعزیری ضابطہ نافذ کیا ہے، جس پر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط بتائے جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ضابطے میں شوہر کو بیوی کی مبینہ “نافرمانی” پر تادیبی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ جسم پر ہڈی ٹوٹنے یا کھلے زخم جیسے نمایاں نشانات نہ ہوں۔ حد سے تجاوز کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی طلبہ کو جسمانی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم شدید جسمانی نقصان کی صورت میں کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکومت متعدد احکامات جاری کر چکی ہے، جن میں خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی سے متعلق سخت پابندیاں شامل رہی ہیں۔ دسمبر 2021 میں خواتین کے لیے طویل فاصلے کے سفر کو محرم کے بغیر ممنوع قرار دیا گیا، جبکہ 2022 میں پارکس، جم اور دیگر عوامی مقامات تک رسائی محدود کی گئی۔ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کی ملازمت پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں، جس سے انسانی امداد کی فراہمی متاثر ہوئی۔

ان تازہ رپورٹس پر عالمی انسانی حقوق تنظیموں اور امدادی اداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کی قانون سازی افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق اور سماجی شرکت پر مزید اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم طالبان حکام کی جانب سے ان دفعات کی باضابطہ تفصیل اور وضاحت کے منتظر ہیں، اور معاملہ تاحال بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔

متعلقہ مضامین

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *