واشنگٹن میں امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ دیرپا امن کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند ہوں تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ اور تعمیرِ نو کا عمل ممکن بنایا جا سکے۔
یہ اجلاس امریکی قیادت میں قائم امن بورڈ کے تحت منعقد ہوا جس کی صدارت امریکی صدر ٹرمپ کر رہے ہیں۔ اس فورم کا مقصد ابتدائی طور پر غزہ میں استحکام پیدا کرنا اور بعد ازاں دیگر عالمی تنازعات کے حل میں کردار ادا کرنا ہے۔
وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطینی عوام طویل عرصے سے غیر قانونی قبضے اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو اپنی سرزمین اور مستقبل پر مکمل اختیار ملنا چاہیے اور ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جانی چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ وزیرِاعظم نے جنوبی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بھی صدر ٹرمپ کے کردار کا حوالہ دیا۔
صدر ٹرمپ کی پاکستان کی قیادت کو خراجِ تحسین
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک قابل جنرل قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مئی دو ہزار پچیس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کو روکنے میں ان کی مداخلت مؤثر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران طیارے مار گرائے جا رہے تھے اور صورتحال تیزی سے بگڑ رہی تھی، تاہم چند روز میں معاملہ حل کر لیا گیا۔
امن بورڈ کا قیام اور اقوامِ متحدہ کا کردار
امن بورڈ کا قیام رواں برس جنوری میں عمل میں آیا، جب کہ اس کی تجویز گزشتہ برس ستمبر میں پیش کی گئی تھی۔ بورڈ کے چارٹر کے مطابق امریکی حکومت اس کی سرکاری امین ہے اور واشنگٹن میں قائم ادارہ ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس اس کا مرکزی دفتر قرار دیا گیا ہے۔
نومبر کے وسط میں سکیورٹی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی اجازت دی گئی۔ یہ جنگ بندی اکتوبر میں ایک منصوبے کے تحت عمل میں آئی تھی جسے اسرائیل اور حماس نے قبول کیا تھا، تاہم بعد ازاں متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ امن بورڈ کے لیے دس ارب ڈالر فراہم کرے گا، جب کہ شریک ممالک نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ابتدائی طور پر سات ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ عالمی فٹ بال تنظیم فیفا نے پچھتر ملین ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کیا، جبکہ اقوامِ متحدہ دو ارب ڈالر انسانی امداد کے لیے فراہم کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ تعمیرِ نو کا عمل اس وقت آگے بڑھے گا جب حماس ہتھیار ڈال دے گی۔
بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل
مجوزہ فورس کے امریکی کمانڈر میجر جنرل جاسپر جیفرز کے مطابق انڈونیشیا نے نائب کمانڈر کا کردار قبول کیا ہے، جبکہ مراکش، البانیہ، قازقستان اور کوسوو نے بھی دستے فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ فورس کا ہدف بیس ہزار اہلکاروں کی تعیناتی اور نئی پولیس فورس کا قیام ہے۔
پاکستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت کسی امن مشن میں شمولیت پر غور کرے گی، کسی مخصوص گروہ کو غیر مسلح کرنے کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی۔
ایرانی جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال
اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ دس دن میں اندازہ لگا لیں گے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بامعنی معاہدہ ممکن ہے یا نہیں، اور فوجی آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
وزیرِاعظم کی مصروفیات اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
وزیرِاعظم شہباز شریف صدر ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن پہنچے۔ وزیرِاعظم آفس کے مطابق ان کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔
دورے کے موقع پر وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
فلسطین کے لیے مؤثر آواز
وفاقی وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ امن بورڈ میں شمولیت کے ذریعے پاکستان فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر آواز بلند کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نہ صرف غزہ میں امن اور تعمیرِ نو کی حمایت کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر قیامِ امن کی کوششوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فورم میں شرکت پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی امن کے لیے اس کے عزم کی عکاس ہے۔