احمد شاہ درانی کے بعد افغانستان میں سیاسی استحکام برقرار رکھنا مشکل ثابت ہوا۔ مختلف حکمرانوں کے ادوار میں مرکزی حکومت کا کنٹرول اکثر بڑے شہروں اور تجارتی راستوں تک محدود رہا، جبکہ ملک کے وسیع حصے نیم خودمختار حیثیت میں رہے۔ اس صورتحال نے داخلی کشیدگی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کو مزید گہرا کیا۔

February 20, 2026

دورے کے موقع پر وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

February 20, 2026

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔

February 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرکاری فائلیں جاری کی جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف سائنسی برادری بلکہ عالمی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ ریکارڈ عام کیا جائے گا۔

February 20, 2026

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

February 20, 2026

عمر گل کو شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (جسے بعض سرکاری حلقے فتنہ الخوارج قرار دیتے ہیں) کی جانب سے تدریسی سرگرمیاں ترک کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ انکار پر انہیں 2025 میں اغوا کر لیا گیا اور وہ مبینہ طور پر مسلح عناصر کی تحویل میں رہے۔

February 19, 2026

افغانستان کی ازسرِ نو تشکیل کی بحث: نسلی تقسیم، تاریخی خدوخال اور علاقائی تنظیمِ نو

احمد شاہ درانی کے بعد افغانستان میں سیاسی استحکام برقرار رکھنا مشکل ثابت ہوا۔ مختلف حکمرانوں کے ادوار میں مرکزی حکومت کا کنٹرول اکثر بڑے شہروں اور تجارتی راستوں تک محدود رہا، جبکہ ملک کے وسیع حصے نیم خودمختار حیثیت میں رہے۔ اس صورتحال نے داخلی کشیدگی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کو مزید گہرا کیا۔
افغانستان کی ازسرِ نو تشکیل کی بحث: نسلی تقسیم، تاریخی خدوخال اور علاقائی تنظیمِ نو

نسلی جغرافیہ نے ریاستی تعمیر کے عمل کو مزید پیچیدہ بنایا۔ پشتون زیادہ تر جنوب اور مشرق میں، تاجک شمال مشرق اور شہری مراکز میں، ازبک شمال میں جبکہ ہزارہ وسطی پہاڑی علاقوں میں آباد رہے ہیں۔

February 20, 2026

افغانستان کی موجودہ بدامنی کی جڑیں اس کی تاریخی تشکیل، نسلی ساخت اور سیاسی اقتدار کے انداز میں پیوست ہیں۔ ایک متحد ریاست کے قیام سے بہت پہلے اس خطے میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور پشتون سمیت مختلف نسلی گروہ اپنے اپنے جغرافیائی علاقوں میں آباد تھے۔ یہ معاشرے زیادہ تر قبائلی وابستگیوں، مقامی طاقت کے ڈھانچوں اور علاقائی خودمختاری کے تحت منظم تھے، نہ کہ کسی مضبوط مرکزی قومی اقتدار کے تحت۔

جدید افغان ریاست کی بنیاد اٹھارہویں صدی کے وسط میں احمد شاہ درانی نے رکھی، جنہیں احمد شاہ ابدالی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مغل اور صفوی سلطنتوں کے زوال کے بعد انہوں نے مختلف پشتون قبائل کو متحد کر کے فوجی فتوحات اور سیاسی اتحادوں کے ذریعے ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ اس دور نے افغان ریاست کی بنیاد رکھی، تاہم اقتدار کا ڈھانچہ زیادہ تر پشتون قبائل کے گرد گھومتا رہا، جس کے باعث دیگر نسلی گروہوں میں سیاسی محرومی کا احساس پیدا ہوا۔

احمد شاہ درانی کے بعد افغانستان میں سیاسی استحکام برقرار رکھنا مشکل ثابت ہوا۔ مختلف حکمرانوں کے ادوار میں مرکزی حکومت کا کنٹرول اکثر بڑے شہروں اور تجارتی راستوں تک محدود رہا، جبکہ ملک کے وسیع حصے نیم خودمختار حیثیت میں رہے۔ اس صورتحال نے داخلی کشیدگی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کو مزید گہرا کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق افغانستان ایک کثیر النسلی معاشرہ ہے جہاں تقریباً بیالیس فیصد پشتون، ستائیس فیصد تاجک اور لگ بھگ نو، نو فیصد ہزارہ اور ازبک آباد ہیں۔ اس کے علاوہ ترکمان، بلوچ، ایماق، پشائی، نورستانی، عرب اور پامیری سمیت دیگر چھوٹے نسلی گروہ بھی موجود ہیں۔ پشتو اور دری دونوں سرکاری زبانیں ہیں، تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ترک النسل آبادی کی موجودگی کے باوجود ان کی زبانوں کو قومی سطح پر مساوی اہمیت حاصل نہیں۔

نسلی جغرافیہ نے ریاستی تعمیر کے عمل کو مزید پیچیدہ بنایا۔ پشتون زیادہ تر جنوب اور مشرق میں، تاجک شمال مشرق اور شہری مراکز میں، ازبک شمال میں جبکہ ہزارہ وسطی پہاڑی علاقوں میں آباد رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جبری نقل مکانی، اندرونی بے دخلی اور سیاسی مداخلتوں نے ان جغرافیائی پیٹرن کو متاثر کیا اور باہمی بداعتمادی میں اضافہ کیا۔

علاقائی روابط نے بھی صورتحال کو متاثر کیا۔ تاجک برادری کے ثقافتی تعلقات تاجکستان سے، ازبکوں کے ازبکستان سے اور پشتونوں کے پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ سرحد پار روابط بعض اوقات داخلی سیاست اور بیرونی مداخلت پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔

طویل عدم استحکام کے باعث افغانستان میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں قائم ہونے کا تاثر بھی موجود رہا ہے۔ کمزور مرکزی کنٹرول اور طویل سرحدوں نے بعض گروہوں کو سرگرمیوں کے مواقع فراہم کیے، جس کے اثرات علاقائی سلامتی تک محسوس کیے گئے۔

ان حالات کے تناظر میں بعض تجزیہ کار افغانستان کی نسلی و علاقائی بنیادوں پر پرامن تنظیمِ نو کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق ازبک اکثریتی علاقے ازبکستان، تاجک اکثریتی علاقے تاجکستان اور پشتون اکثریتی خطے پاکستان کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں، جبکہ باقی علاقوں پر مشتمل ایک نئی خودمختار ریاست قائم کی جا سکتی ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس طرح سیاسی سرحدوں کو سماجی حقائق سے ہم آہنگ کر کے داخلی کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔

تاہم ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسی کسی بھی تجویز پر عمل درآمد نہایت پیچیدہ ہوگا اور اس کے لیے علاقائی اتفاقِ رائے، بین الاقوامی ضمانتیں اور اقلیتوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ ناگزیر ہوگا۔ ان کے مطابق افغانستان کا مسئلہ صرف سرحدوں کی تبدیلی سے حل نہیں ہوگا بلکہ شمولیتی حکمرانی، مضبوط اداروں اور معاشی استحکام کی بھی اشد ضرورت ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مستقبل سے متعلق کسی بھی حکمتِ عملی میں خود ارادیت، علاقائی تعاون اور دیرپا امن کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی تاکہ جنوبی اور وسطی ایشیا میں پائیدار استحکام ممکن بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

دورے کے موقع پر وزیرِاعظم نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

February 20, 2026

اُنہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مدارس کے اندر آئینِ پاکستان کی تعلیم لازمی کرنے کی ضرورت ہے، پیغام پاکستان بھی نصاب کا حصّہ ہونا چاہیئے۔ کوئی بھی نوجوان جب آئینِ پاکستان پڑھے گا تو اُسے سمجھ آ جائے گی کہ پاکستان ایک اِسلامی مُلک ہے۔

February 20, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی بڑے پیمانے پر سرکاری فائلیں جاری کی جاتی ہیں تو اس سے نہ صرف سائنسی برادری بلکہ عالمی سطح پر تحقیق کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ کب تک اور کس حد تک یہ ریکارڈ عام کیا جائے گا۔

February 20, 2026

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی خاتون شوہر کی اجازت کے بغیر تشدد سے بچنے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ پناہ دینے والے رشتہ داروں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مزید برآں 2009 کے خواتین پر تشدد کے انسداد سے متعلق قانون کو ختم کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔

February 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *