افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں کے ضلع چاہ آب میں سونے کی قیمتی کانوں پر قبضے اور کنٹرول کے حصول کے لیے طالبان کے ایک بااثر مسلح گروہ کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کی اعلیٰ قیادت کے قریبی سمجھے جانے والے ‘مافیا ونگ’ نے علاقے میں ایک ہزار سے زائد مسلح جنگجو تعینات کر دیے ہیں تاکہ کان کنی کے وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق ان مسلح افراد کا تعلق طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے قریبی حلقوں ملا منصور اور عمر حاجی بشیر نورزئی کے سابق معاونین سے بتایا جاتا ہے۔ یہ نئی تعیناتیاں ایک ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب علاقے میں موجود مقامی تاجک طالبان ارکان اور مرکزی قیادت کے نمائندوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
مزدوروں کے حقوق
تنازع کی اصل وجہ سونے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مطالبات بنے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کان کنوں نے اپنی اجرتوں میں اضافے اور حاصل ہونے والے منافع میں حصہ دینے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دبانے کے لیے مرکزی گروہ نے طاقت کے استعمال کا حکم دیا۔ تاہم، مقامی تاجک طالبان ارکان نے اپنے ہی لوگوں اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کے احکامات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد مرکزی قیادت کے زیرِ اثر گروہ نے بھاری نفری بھیج کر علاقے کا کنٹرول براہِ راست سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔
اندرونی اختلافات
واضح رہے کہ بدخشاں میں معدنی وسائل، خاص طور پر سونے کی کانیں، مختلف طالبان دھڑوں کے درمیان آمدنی کے حصول کا بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ حالیہ پیش رفت نے مقامی تاجک جنگجوؤں اور قندھار و کابل سے تعلق رکھنے والے بااثر حلقوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے اثرات افغانستان کی داخلی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔