بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی حالیہ رپورٹنگ پاکستان میں شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں اسے ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کے لیے ’فائٹر‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراضات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین اور بعض تجزیہ کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے الفاظ دہشتگردی کی سنگینی کو کم ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کی نوعیت کو مسخ کرتے ہیں۔
الجزیرہ کی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ’ایک فائٹر‘ نے دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل سکیورٹی قافلے کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کالعدم قرار دیے گئے گروہوں کے لیے اس نوعیت کی اصطلاحات استعمال کرنا غیر مناسب ہے۔
Two soldiers have been killed during a military operation when a fighter driving an explosive-laden motorcycle rammed a security convoy vehicle in Pakistan’s Khyber Pakhtunkhwa province, according to the army. https://t.co/BxcZvMhCj7
— Al Jazeera English (@AJEnglish) February 21, 2026
دوسری جانب، ذرائع نے ایچ ٹی این کو بتایا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں الجزیرہ کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
میڈیا مبصرین کے مطابق دہشتگردی جیسے حساس معاملات میں الفاظ کے چناؤ کی غیر معمولی اہمیت ہوتی ہے، کیونکہ اصطلاحات نہ صرف بیانیہ تشکیل دیتی ہیں بلکہ متاثرہ ریاست اور عوام کے جذبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ حکام کی جانب سے ممکنہ اقدامات اور الجزیرہ کی وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی ماہرین کا مؤقف
پاکستان میں حالیہ حملے کی نوعیت خود اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ اسے کس قانونی اور اخلاقی دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل کو سکیورٹی قافلے سے ٹکرانا بین الاقوامی قانون اور انسدادِ دہشتگردی فریم ورک کے تحت ایک دہشتگردانہ کارروائی ہے، نہ کہ دو مساوی فریقوں کے درمیان روایتی جنگی جھڑپ۔ ٹی ٹی پی ایک اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کا سامنا کرنے والا گروہ ہے جو دو دہائیوں میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار رہا ہے، جن میں 2014 کا سانحہ اے پی ایس پشاور بھی شامل ہے۔ ایسے ریکارڈ کے باوجود اس کے کارندوں کو “فائٹرز”، “مسلح گروہ” یا “علیحدگی پسند” کہنا نہ صرف اصطلاحی نرمی ہے بلکہ حقائق کی سنگینی کو دھندلا دیتا ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ خودکش بمبار کو سیاسی کارکن یا عمومی جنگجو کے طور پر پیش نہ کیا جائے بلکہ اسے اسی تناظر میں بیان کیا جائے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔
مزید یہ کہ رپورٹنگ میں لسانی توازن بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایک جانب پاکستان کے مؤقف کو “دعویٰ” یا “الزام” کے طور پر فریم کیا جائے جبکہ دوسری جانب طالبان کے بیانات کو براہِ راست انداز میں پیش کیا جائے تو یہ خاموشی سے ایک فریق پر شبہ اور دوسرے کو اعتبار دینے کے مترادف بنتا ہے۔ 2021 کے بعد ٹی ٹی پی حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ محض بیانیہ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش سکیورٹی چیلنج ہے۔ دو دہائیوں میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دینے والے ملک کے انسدادِ دہشتگردی اقدامات کو اختیاری جارحیت نہیں بلکہ دفاعی ردِعمل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ جب زبان اس فرق کو مٹا دیتی ہے تو وہ صرف واقعات کی رپورٹنگ نہیں کرتی بلکہ پورے بحران کی تعبیر بدل دیتی ہے۔