ٹرمپ نے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کی افغان امداد اس کی واپسی سے مشروط ہو سکتی ہے۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اور ضامن دستخط کیے۔

June 18, 2026

پی ٹی وی نیوز کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام بدل کر دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ بحال کر دیا ہے، جسے بھارت کی بڑی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔

June 18, 2026

ترک انٹیلی جنس نے داعش خراسان کے سینئر میڈیا سربراہ احمد قازانجی کو گرفتار کر لیا، جو افغانستان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد تنظیمی سرگرمیوں میں سرگرم تھا۔

June 18, 2026

پاکستان کا کہنا ہے کہ امریک ایران امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کا بڑا موقع ہے، جو یمن میں طویل تنازع کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران نے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری کھولا جائے گا۔

June 18, 2026

ٹی ٹی پی کے خودکش بمبار کو ‘فائٹر’ کہنے پر پاکستانی حکام نے الجزیرہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا؛ نشریات بند کرنے پر غور

دوسری جانب، ذرائع نے ایچ ٹی این کو بتایا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں الجزیرہ کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے خودکش بمبار کو 'فائٹر' کہنے پر پاکستانی حکام نے الجزیرہ کو آڑے ہاتھوں لے لیا؛ نشریات بند کرنے پر غور

الجزیرہ کی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ’ایک فائٹر‘ نے دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل سکیورٹی قافلے کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہوئے۔

February 22, 2026

بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی حالیہ رپورٹنگ پاکستان میں شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے، جہاں اسے ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کے لیے ’فائٹر‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراضات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین اور بعض تجزیہ کاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے الفاظ دہشتگردی کی سنگینی کو کم ظاہر کرتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کی نوعیت کو مسخ کرتے ہیں۔

الجزیرہ کی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ’ایک فائٹر‘ نے دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل سکیورٹی قافلے کی گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہوئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کالعدم قرار دیے گئے گروہوں کے لیے اس نوعیت کی اصطلاحات استعمال کرنا غیر مناسب ہے۔

دوسری جانب، ذرائع نے ایچ ٹی این کو بتایا ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان میں الجزیرہ کی نشریات عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکام معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

میڈیا مبصرین کے مطابق دہشتگردی جیسے حساس معاملات میں الفاظ کے چناؤ کی غیر معمولی اہمیت ہوتی ہے، کیونکہ اصطلاحات نہ صرف بیانیہ تشکیل دیتی ہیں بلکہ متاثرہ ریاست اور عوام کے جذبات پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ حکام کی جانب سے ممکنہ اقدامات اور الجزیرہ کی وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ماہرین کا مؤقف

پاکستان میں حالیہ حملے کی نوعیت خود اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ اسے کس قانونی اور اخلاقی دائرے میں دیکھا جانا چاہیے۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری موٹر سائیکل کو سکیورٹی قافلے سے ٹکرانا بین الاقوامی قانون اور انسدادِ دہشتگردی فریم ورک کے تحت ایک دہشتگردانہ کارروائی ہے، نہ کہ دو مساوی فریقوں کے درمیان روایتی جنگی جھڑپ۔ ٹی ٹی پی ایک اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کا سامنا کرنے والا گروہ ہے جو دو دہائیوں میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار رہا ہے، جن میں 2014 کا سانحہ اے پی ایس پشاور بھی شامل ہے۔ ایسے ریکارڈ کے باوجود اس کے کارندوں کو “فائٹرز”، “مسلح گروہ” یا “علیحدگی پسند” کہنا نہ صرف اصطلاحی نرمی ہے بلکہ حقائق کی سنگینی کو دھندلا دیتا ہے۔ ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ خودکش بمبار کو سیاسی کارکن یا عمومی جنگجو کے طور پر پیش نہ کیا جائے بلکہ اسے اسی تناظر میں بیان کیا جائے جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔

مزید یہ کہ رپورٹنگ میں لسانی توازن بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر ایک جانب پاکستان کے مؤقف کو “دعویٰ” یا “الزام” کے طور پر فریم کیا جائے جبکہ دوسری جانب طالبان کے بیانات کو براہِ راست انداز میں پیش کیا جائے تو یہ خاموشی سے ایک فریق پر شبہ اور دوسرے کو اعتبار دینے کے مترادف بنتا ہے۔ 2021 کے بعد ٹی ٹی پی حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے، اور پاکستان کے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا مسئلہ محض بیانیہ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش سکیورٹی چیلنج ہے۔ دو دہائیوں میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دینے والے ملک کے انسدادِ دہشتگردی اقدامات کو اختیاری جارحیت نہیں بلکہ دفاعی ردِعمل کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ جب زبان اس فرق کو مٹا دیتی ہے تو وہ صرف واقعات کی رپورٹنگ نہیں کرتی بلکہ پورے بحران کی تعبیر بدل دیتی ہے۔

دیکھیے: بدخشاں: سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے افغان طالبان کے مسلح جتھوں کی مداخلت

متعلقہ مضامین

ٹرمپ نے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل کی افغان امداد اس کی واپسی سے مشروط ہو سکتی ہے۔

June 18, 2026

امریکہ اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اور ضامن دستخط کیے۔

June 18, 2026

پی ٹی وی نیوز کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع نے انڈو پیسیفک کمانڈ کا نام بدل کر دوبارہ امریکی پیسیفک کمانڈ بحال کر دیا ہے، جسے بھارت کی بڑی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔

June 18, 2026

ترک انٹیلی جنس نے داعش خراسان کے سینئر میڈیا سربراہ احمد قازانجی کو گرفتار کر لیا، جو افغانستان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد تنظیمی سرگرمیوں میں سرگرم تھا۔

June 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *