واخان کاریڈور ایک بار پھر افغانستان، پاکستان کے منظرنامے میں ڈسکس ہونے لگا ہے، سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بہت کچھ آ رہا ہے، اس میں سے زیادہ تر غلط سلط اور افواہیں ہی ہیں۔ افغان سوشل میڈیا اکاونٹس یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان وا خان کاریڈور پر حملہ کر کے قبضہ کر سکتا ہے۔
دوسری طرف طالبان مخالف اتحاد نیشنل رزسٹنس فرنٹ کے قائد احمد مسعود نے باقاعدہ طور پر پاکستان کو وا خان کاریڈور پر حملہ کر کے عارضی قبضہ کرنے کی دعوت بھی دے دی ہے، نیشنل فرنٹ چاہتا ہے کہ پاکستان اس پر کنٹرول کر کے انہیں اپنی حکومت بنانے دے اور ان کا دارالحکومت واخان ہی ہوجائے۔ اس پر بات کرتے ہیں، مگر پہلے وا خان کاریڈور کو سمجھ لینا چاہیے۔
وا خان کاریڈور کی اہمیت
واخان کاریڈوز افغانستان میں ایک بہت ہی اہم اور سٹریٹجک نوعیت کی پٹی ہے جو افغان صوبہ بدخشاں میں شامل ہے اور اس کا آغاز اسی صوبے کے علاقے اشکاشم سے ہوتا ہے۔ کئی سو کلومیٹر طویل یہ زمینی پٹی کئی مقامات پر صرف دس سے پندرہ کلومیٹر چوڑی ہے۔ یہ پٹی ہی افغانستان کو چین کا پڑوسی بناتی ہے۔
چین کا صوبہ سنکیانگ واخان کوریڈور سے ملتا ہے جب کہ شمال میں تاجکستان اور جنوب میں پاکستان کے صوبۂ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی سرحدیں اس راہداری سے ملتی ہیں۔ یعنی وا خان کاریڈور پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور چین کو آپس میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے لئے واخان کاریڈور کی حیثیت اس لئے بھی اہم ہے کہ اس کے ذریعے افغانستان کو بائی پاس کرتے ہوئے بھی تاجکستان سے براہ راست مختصر ترین زمینی راستے سے کنیکٹوٹی ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں چترال سے واخان کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی کے منصوبے زیرِ غور رہے ہیں۔
وا خان ایک بفر زون
دلچسپ بات یہ ہے کہ تاریخی اعتبار سے واخان کاریڈور ایک بفرزون کے طور پر سوچا گیا تھا۔ دراصل انیسویں صدی میں افغانستان پر برطانیہ ہی کا گہرا اثرونفوذ تھا۔ تب تاجکستان وغیرہ سوویت یونین کا حصہ تھے۔ واخان کے علاقے میں پہلے کبھی ایک چھوٹی سی ریاست ہوتی تھی جو بدخشاں اور چین کے چن خاندان کے ماتحت تھی۔برطانیہ نے واخان کی پٹی کو بفر زون بنایا تاکہ روس اور برطانیہ کی براہ راست سرحد نہ ملے۔ اسے افغانستان کو دیا گیا ، اس وقت کے افغان حکمران امیر عبدالرحمن اس پر راضی نہیں تھے، مگر چونکہ برطانیہ انہیں سالانہ پچاس ہزار روپے دیا کرتا تھا، اس لئے وہ مجبوراً رضامند ہوگئے۔ تب کس کو معلوم تھا کہ یہ ایک دن بہت اہم ہوجائے گا؟
وا خان کا علاقہ بہت بلند اور دشوار گزار ہے۔ سترہ ہزار فٹ تک بلندی ہے اور مشکل پہاڑی راستے۔ آبادی بھی کم ہے۔ دو ہزار بائیس تک اندازے کے مطابق مقامی آبادی بیس ہزار سے کچھ کم ہی تھی۔ زیادہ تر یہ واخی اور پامیر قبائل کے لوگ ہیں چرواہے وغیرہ۔
افغان طالبان حکومت وا خان کاریڈور کو ترقی دینے کے خلاف ہے۔ایسے کسی منصوبے کو خطے میں اپنی اسٹرٹیجک اہمیت کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ افغانستان کو علم ہے کہ واخان کاریڈور اگر ترقی کر گیا یا اس کے ذریعے پاکستان تاجکستان کا ڈائریکٹ ٹریڈ روٹ بن گیا تو پھر افغانستان کو کون پوچھے گا؟ طالبان اس حوالے سے اس قدر حساس ہیں کہ پچھلے سال سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیل گئی کہ پاکستان نے فوج کشی کر کے واخان کاریڈؤر پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک بے بنیاد افواہ تھی، مگر طالبان اس قدر گھبرائے کہ وزیر دفاع ملا یعقوب ازخود دیکھنے کے لئے واخان پہنچ گیا۔
واخان پر قبضہ پاکستان کے لئے کیسا رہے گا؟
اس مفروضے کے مختلف پہلو ہیں، سب ہی دیکھ لیتے ہیں۔
الف: عسکری حقیقت: یہ ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ، جہاں اگر قبضہ کر بھی لیا جائے تو برقراررکھنا مشکل ہے کیونکہ ایک طویل سپلائی لائن بنانا پڑے گی۔ اس کی غیر معمولی حساسیت کی ایک وجہ چینی سرحد سے متصل ہونا بھی ہے۔ چین اس بارے میں بہت حساس اور اس حوالے سے معمولی سی بے چینی یا اضطراب بھی برداشت نہیں کر پائے گا۔ جبکہ طالبان مزاحمت بھی بہت زیادہ ہوگی، اس لئے نتیجہ یہ نکالا جا سکتا ہے کہ ادھر قبضہ ممکن تو ہے، مگر قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
(ب) سفارتی و قانونی پہلو: ایسے کسی بھی قدم کا اقوام متحدہ میں شدید ردعمل ہوگا۔ چین کا موقف فیصلہ کن ہوگا جبکہ پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔افغانستان کی علاقائی سالمیت کے بھی یہ خلاف جائے گا تو عام افغان اس کی مخالفت کرے گا۔
ج) جیو اکنامک زاویہ: اگر قبضہ نہ ہو مگر کسی معاہدے کے ذریعے راہداری مل جائے۔ چار فریقی تعاون (پاکستان، چین، افغانستان، تاجکستان) فعال ہو۔ خطے میں دہشت گردی کنٹرول ہو تو زیادہ پائیدار حل ممکن۔ ویسے بظاہر یہ چار فریقی تعاون آوٹ آف کوئسچن لگ رہا ہے۔
قبضہ کیوں کیا جائے؟چند سوالات
کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ سوچا اور جانچا جاتا ہے کہ ایسا کرنے کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ۔ سو سوال یہ نہیں کہ “ہم قبضہ کر سکتے ہیں یا نہیں؟”اصل سوال یہ ہے: “کیا یہ پاکستان کے طویل المدتی مفاد میں ہے؟”
اس لئے کہ پاکستان پہلے ہی دو سرحدوں پر دباؤ میں ہے۔ ایک نیا محاذ کھولنا تزویراتی دانشمندی ہوگی یا جلد بازی؟
پاکستان کا پرانا خواب ہے کہ تاجکستان سے براہِ راست زمینی رابطہ ، تاہم کیا وا خان کا جغرافیہ بڑے تجارتی راستے کے لیے موزوں ہے؟کیا سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر مستقل راہداری کتنی عملی ہوگی؟کیا سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے ساتھ ہم مزید بوجھ اٹھا سکتے ہیں؟
اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رہی تو پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔وا خان پر اثر و رسوخ ایک تزویراتی دباؤ کا آلہ بن سکتا ہے۔ تاہم براہِ راست قبضہ طالبان کو کھلی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ آپشن تب ہی استعمال ہونی چاہیے جب کھلی جنگ کی نوبت آ جائے۔
چین کا فیکٹر فیصلہ کن ہے۔
وا خان براہِ راست چین سے جڑا ہے۔ چین اس سائیڈ پر مکمل استحکام چاہتا ہے، سرحدی تبدیلی نہیں۔ اگر پاکستان یکطرفہ قدم اٹھاتا ہے تو بیجنگ کی رضامندی ناگزیر ہوگی۔یہ یاد رکھیں کہ وا خان کا دروازہ کابل سے کم، بیجنگ سے زیادہ کھلتا ہے۔
وا خان کاریڈور ایک وارننگ
مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ وا خان کاریڈور پر قبضے کی بات دراصل ایک وارننگ، ایک خطرے کا الارم ہی ہے افغان طالبان کے لئے ۔ ریاستیں بعض اوقات براہِ راست اقدام نہیں کرتیں، بلکہ “امکان” کو ہتھیار بناتی ہیں۔ وا خان کے معاملے میں ممکنہ پیغام یہ ہے کہ اگر کابل ٹی ٹی پی کو نہیں روکے گا ،اگر سرحدی دراندازی جاری رہی ۔اگر پاکستان کے مفادات نظرانداز ہوئے تو پاکستان بھی جغرافیائی آپشن میز پر رکھ سکتا ہے۔یہ اصل میں “قبضہ” نہیں، بلکہ “اشارہ” ہے۔ بعض اوقات جنگ لڑنے سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے جنگ کے امکان کو زندہ رکھنا۔
اس کارڈ کو مگر احتیاط کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا ۔ اس لئے کہ وا خان پر طالبان جذباتی ردعمل دے سکتے ہیں،سرحدی کشیدگی بڑھ سکتی ہے، چین ایسی کسی غیر یقینی صورتحال کو پسند نہیں کرے گا۔اس لئے اگر یہ دباؤ کی حکمت عملی ہے تو اسے انتہائی ناپ تول کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔
آخر میں دو باتیں یاد رکھیں۔ اسے آپ سیانوں کے بتائے حکمت والی بات سمجھ لیں۔ نمبرا: وا خان پہاڑوں میں چھپی ایک خاموش بارودی لکیر ہے۔
نمبر دو: پاکستان اگر وا خان میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف زمین نہیں، ایک عالمی شطرنج کی بساط پر قدم رکھے گا۔ اس لئے یہ بہت ہی سوچ سمجھ کر ، بہت دھیان سے کیلکولیٹڈ فیصلہ ہوگا۔ پاکستانی منصوبہ سازوں سے درست وقت پر درست فیصلہ کرنے کی توقع رکھنی چاہیے۔