پشاور: خیبر پختونخوا میں تعلیمی شعبے اور انتظامی گورننس کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے، جہاں صوبے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی اساتذہ اور ایڈمن افسران اپنے حقوق کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صوبے کے ان سنگین عوامی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے بجائے دھرنوں، نعروں اور سیاسی تماشوں میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے صوبے میں انتظامی خلا پیدا ہو رہا ہے۔
گومل یونیورسٹی کا بحران
صوبے کے اہم ترین تعلیمی ادارے، گومل یونیورسٹی میں اس وقت شدید ترین انتظامی بحران پیدا ہو چکا ہے جہاں حالیہ اقدامات کے تحت تقریباً 250 کے قریب اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور اساتذہ کو ملازمتوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس اہم یونیورسٹی میں سال 2012 سے اب تک کوئی مستقل رجسٹرار تعینات نہیں ہو سکا ہے اور پورا ادارہ طویل عرصے سے عارضی بندوبست کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ مستقل قیادت نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی کے انتظامی اور تعلیمی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ادارے یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔
فریق بننے کا الزام
اس پورے بحران میں صوبائی حکومت کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ اور مبصرین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ صوبائی وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن مینا خان، یونیورسٹی کے وائس چانسلر (وی سی) اور قائم مقام رجسٹرار کے ساتھ مل کر اس معاملے میں خود ایک فریق بن چکے ہیں، جس کے باعث میرٹ اور انصاف کے تقاضے پامال ہو رہے ہیں۔ حل طلب مسائل کو سلجھانے کے بجائے انتظامیہ اور وزارت کا یہ رویہ تعلیمی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔
اڈیالہ اور حکومتی نااہلی
صوبے میں تعلیم کی زبوں حالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وزیرستان جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک پی ایچ ڈی ٹاپر خاتون بھی انصاف کے حصول کے لیے راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے کہ اس کے اعلیٰ دماغ سڑکوں پر رول رہے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ اپنی انتظامی نااہلی کو چھپانے کے لیے ہر اہم صوبائی مسئلے کو سیاسی ڈرامے اور اڈیالہ کی سیاست کی نذر کر دیتے ہیں۔ اب صوبے کے عوام یہ سیدھا سوال اٹھا رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ صوبے کے عوام کا نمائندہ ہے یا صرف دھرنوں اور سیاسی ایجنڈوں کا؟