اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔

February 28, 2026

یورپی کونسل نے پاک افغان سرحد پر حالیہ جھڑپوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے

February 28, 2026

آماج نیوز کے مطابق پاکستانی جنگی طیاروں نے ہفتہ کی صبح ننگرہار ایئرپورٹ پر بمباری کی ہے، تاہم طالبان نے تاحال اس پر کوئی موقف نہیں دیا

February 28, 2026

اسلام آباد میں مارگلہ ہلز کو آگ لگانے کے الزام میں دو افغان شہری گرفتار، آتشزدگی سے 200 درخت تباہ ہو گئے

February 28, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کاروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دے دیا ہپ

February 28, 2026

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران کے علاقوں یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوری ایریا میں کئی میزائل گرے ہیں۔ مغربی تہران میں موجود نمائندوں نے دو زور دار دھماکوں کی آواز سننے کی تصدیق کی ہے، جبکہ شہر کے وسطی علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

February 28, 2026

پاکستانی طیارہ مار گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری کے افغان دعوے من گھڑت ثابت؛ ایچ ٹی این تفصیلی حقائق سامنے لے آیا

اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔
پاکستانی طیارہ مار گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری کے افغان دعوے من گھڑت ثابت؛ ایچ ٹی این تفصیلی حقائق سامنے لے آیا

رپورٹ کے مطابق ننگرہار میں پاکستانی جنگی طیارہ گرائے جانے یا کسی پائلٹ کی گرفتاری کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ نہ ملبے کی تصدیق شدہ تصاویر سامنے آئی ہیں، نہ جغرافیائی شواہد اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اس واقعے کی توثیق کی ہے۔

February 28, 2026

وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیکٹ چیک کے مطابق افغان طالبان حکام اور بعض بھارتی و علاقائی میڈیا اداروں کی جانب سے پھیلایا گیا یہ دعویٰ کہ ننگرہار میں پاکستانی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ زندہ گرفتار کر لیا گیا، حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دعوے کی تاحال کسی بھی آزاد، معتبر یا بین الاقوامی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ دستیاب مواد کا جائزہ لینے سے یہ بیانیہ مشکوک ثابت ہوتا ہے۔

دعویٰ کیا تھا؟

افغانستان کی نام نہاد وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ افغان فورسز نے ننگرہار میں پاکستانی طیارہ تباہ کر کے اس کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا۔ اس دعوے کو بعض بھارتی میڈیا اداروں اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول مین اسٹریم میڈیا نے فوری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ تاہم پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے کسی بھی طیارے کے نقصان کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی دفاعی مانیٹرنگ ادارے، سیٹلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارم یا عالمی خبر رساں ایجنسی نے اس واقعے کی توثیق کی۔

جدید دور میں کسی جنگی طیارے کے گرنے کا واقعہ عام طور پر سیٹلائٹ تصاویر، ملبے کی ویڈیوز اور آزاد ذرائع کی رپورٹس کے ذریعے جلد سامنے آ جاتا ہے، مگر اس معاملے میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

وائرل ویڈیو کی حقیقت

وائرل کی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی پرانے اور غیر متعلقہ واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک افغان شہری کو اسپورٹس پیراشوٹ کے ساتھ دکھایا گیا جسے بعض حلقوں نے پاکستانی پائلٹ قرار دیا، لیکن اس کی شناخت اور سیاق و سباق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک تصویر جسے بعض افغان میڈیا پلیٹ فارمز نے پاکستانی طیارے کا ملبہ قرار دیا، درحقیقت 2021 میں ترکی میں پیش آنے والے ایک روسی فائر فائٹنگ طیارے کے حادثے کی ہے۔ اس حادثے میں روسی ساختہ بی ای-200 طیارہ جنوبی ترکی میں گر کر تباہ ہوا تھا اور اس کی تصاویر بین الاقوامی میڈیا بشمول سی این این نے شائع کی تھیں۔ اس پرانی تصویر کو موجودہ دعوے سے جوڑنا گمراہ کن طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں کچھ دیگر تصاویر 2012 میں پیش آنے والے ایک پاکستانی فضائی حادثے سے منسلک پائی گئیں، جن میں ریسکیو 1122 کے اہلکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان تصاویر کو حالیہ واقعے کے طور پر پیش کرنا بھی حقائق کے منافی ہے۔ فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں سرحدی کشیدگی کے تناظر میں متعدد گمراہ کن ویڈیوز اور پوسٹس سامنے آئی ہیں جنہیں بعد ازاں غلط ثابت کیا گیا۔ یہ دعویٰ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے، جس میں غیر متعلقہ بصری مواد کو استعمال کر کے ایک سنسنی خیز مگر غیر مصدقہ بیانیہ تشکیل دیا گیا۔

حقائق

رپورٹ کے مطابق ننگرہار میں پاکستانی جنگی طیارہ گرائے جانے یا کسی پائلٹ کی گرفتاری کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ نہ ملبے کی تصدیق شدہ تصاویر سامنے آئی ہیں، نہ جغرافیائی شواہد اور نہ ہی کسی آزاد ذریعے نے اس واقعے کی توثیق کی ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کو شیئر کرنے سے گریز کریں اور حساس حالات میں صرف مستند اور قابلِ اعتماد ذرائع پر انحصار کریں۔

متعلقہ مضامین

یورپی کونسل نے پاک افغان سرحد پر حالیہ جھڑپوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے

February 28, 2026

آماج نیوز کے مطابق پاکستانی جنگی طیاروں نے ہفتہ کی صبح ننگرہار ایئرپورٹ پر بمباری کی ہے، تاہم طالبان نے تاحال اس پر کوئی موقف نہیں دیا

February 28, 2026

اسلام آباد میں مارگلہ ہلز کو آگ لگانے کے الزام میں دو افغان شہری گرفتار، آتشزدگی سے 200 درخت تباہ ہو گئے

February 28, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کاروائیوں کا اعلان کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دے دیا ہپ

February 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *