جس کا خطرہ تھا، وہ ہوگیا۔ امریکہ اور اسرائیل ایران پر شدید ترین حملہ کر چکے ہیں ، تہران سمیت کئی ایرانی شہروں پر مسلسل میزائل بارش کی گئی، یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور شائد اگلے دو تین دن تک جاری رہے گا۔ ایران نے بھی اپنے جوابی میزائل ہر جگہ داغ دئیے ہیں۔ ایران کے پاس جو کارڈز ہے لگتا ہے وہ سب کے سب استعمال کرلے گا۔
اپنے قارئین کے لئے ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ کون کہاں کھڑا ہے، کون کیا چاہتا ہے اور ایران امریکہ/اسرائیل جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
سب سے پہلے حملہ آور کو دیکھتے ہیں،جنہوں نے جنگ شروع کی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کیا چاہتے ہیں؟
سادہ جواب تو یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم چینج چاہتے ہیں مگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کہتا ہے کہ براہِ راست فضائی حملوں سے ایران میں رجیم چینج آسان نہیں۔
رجیم چینج کے لیے ضروری ہوتا ہے:
زمینی افواج یا اندرونی بغاوت
اپوزیشن کی منظم قیادت
طویل المدتی قبضہ یا خانہ جنگی
ایران میں رجیم چینج کے امکانات کتنے؟
موجودہ حالات میں بیرونی فوجی دباؤ کے ذریعے فوری رجیم چینج کے امکانات 10–15% سے زیادہ نہیں۔
وجوہات: ریاستی ڈھانچہ مضبوط ہے ۔ پاسدارانِ انقلاب، بسیج، انٹیلی جنس نیٹ ورک۔ اپوزیشن منتشر ہے، کوئی متفقہ قیادت نہیں۔ بیرونی حملہ عموماً اندرونی قوم پرستی کو مضبوط کرتا ہے۔ امریکہ زمینی افواج اتارنے کی پوزیشن میں نہیں (عراق 2003 کا تجربہ ابھی بھی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ذہن میں ہے)۔اگر اندرونی بغاوت اور معاشی کولیپس اور حکمران اشرافیہ کی تقسیم بیک وقت ہوجائے تب امکانات بڑھ سکتےہیں، مگر سردست ایسا واضح نہیں۔
رہبر انقلاب کی ذات
ایرانی رجیم رہبرانقلاب سید علی خامنائی کی کرشماتی شخصیت پر ٹکی ہوئی ہے۔ انہوں نے سب پرزوں کو ایک ساتھ جوڑا ہوا ہے۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایرانی قیادت ختم ہو جائے، خاص کر رہبر انقلاب سید علی خامنائی۔ یہ اہم ترین نکتہ ہے ، جب تک خامنائی صاحب موجود ہیں، ایرانی رجیم موجود ہے۔ اگر خدانخواستہ وہ ہٹ ہوگئے تو پھر حالات بہت ہی سنگین صورتحال کی طرف جا سکتے ہیں۔ پھر ایران بھی سب کچھ داو پر لگا دے گا۔ پھر پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔
اگر رجیم چینج نہ ہوئی تو امریکہ کیا کر سکتا ہے؟
▪ پہلی آپشن : ایران کو کمزور تر بنایا جائے، نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر ختم ہوجائے۔ ایران گرے نہیں مگر ناتواں ہوجائے کہ وہ کسی پراکسی کی مدد کرنے کے قابل نہ رہ جائے ۔ ایرانی میزائل صلاحیت محدود ہوجائے۔ ویسے یہ قدرے لانگ ٹرم حل ہے ،ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کے بعض ماہرین یہ تجویز دے رہے ہیں، مگر صدر ٹرم کرکٹ کی اصطلاح میں ٹی ٹوئنٹی بلکہ ٹی ٹین والی کرکٹ کے حامی ہیں، تیز جارحانہ، فوری فیصلہ کن۔
دوسری آپشن : جنگ کی شدت بڑھائی جائے مگر کیلکولیٹڈ۔ منتخب اہداف پر دوبارہ حملے، پاسداران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا، سائبر حملےوغیرہ ۔یہ چلتا رہے ، حتیٰ کہ ایرانی موجودہ رجیم کی عسکری قوت بالکل تباہ ہوجائے۔
تیسری آپشن : اکنامک وار فئیر۔ یہ وہ حربہ ہے جو امریکی پہلے استعمال کرتے رہے ہیں یعنی پابندیاں، تیل برآمدات پر دباؤ، ثانوی پابندیاں چین/دیگر خریداروں پر ۔ یہ ایران کو معاشی طور پر تھکانے کی حکمت عملی ہوگی۔لگتا مگر یہ ہے کہ اسرائیل تو یہ ہرگز نہیں چاہتا، وہ مکمل حل چاہتا ہے جبکہ امریکی بھی اب فاسٹ فارورڈ ماڈ میں ہیں۔
چوتھی آپشن : اس میں ایران کے اندر داخلی عدم استحکام اس قدر بڑھایا جائے کہ عوام اٹھ کھڑے ہوں اور رجیم چینج ہوجائے ۔ میڈیا/سائبر اثراندازی۔نسلی/علاقائی گروہوں کو ہوا دینا۔اشرافیہ میں دراڑ ڈالنا۔ یہ سب مگر سست اور غیر یقینی طریقے ہیں۔ اس لئے بھی کہ ایران میں انٹرنیٹ پر سخت پابندی ہے، میڈیا کنٹرولڈ ہے، سوشل میڈیا بھی بند ہے۔ باہر سے سٹار لنک انٹرنیٹ ڈیوائسز لانے کی کوشش کی گئی مگر اس پر کریک ڈاون جاری ہے۔
کیا مکمل جنگ ہو سکتی ہے؟
شدید ترین قسم کی جنگ جس میں زمینی فوجیں آپس میں ٹکرائیں جیسا عراق پر دو ہزار تین میں امریکی حملے میں ہوا تھا، اس کے امکانات بہت زیادہ نہیں کیونکہ ایران ہرمز بند کرے تو عالمی معاشی دھچکا،اسرائیل پر بھاری میزائل حملہ ہو تو فوری بڑا ردعمل جبکہ امریکہ الیکشن/داخلی دباؤ اپنی جگہ ہے۔
۔
امریکہ کا حتمی مقصد کیا ہے؟
یہ ملین ڈالر سوال ہے، امریکہ رجیم چینج کی بات کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ حکومت تبدیل کریں۔ امریکی صدر کی اپیل پر مگر ایرانی عوام ایسا کبھی نہیں کر سکتی، کبھی نہیں۔
ویسے امریکہ کے بعض اہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کا اصل ہدف ایران کو ہر قیمت پر نیوکلیئر قوت بننے سے دور رکھنا ہے، خطے میں اسرائیل کی علاقائی برتری کو مستحکم کرنا جبکہ خلیجی اتحادیوں کو یقین دہانی کہ ان کے معاملات ٹھیک رہیں گے اور پھر چین،روس،ایران محور کو محدود کرنا بھی ترجیحی لسٹ میں شامل ہے۔
ایران کا جواب کیا ہو سکتا ہے؟
ایران کی حکمت عملی عام طور پر مختلف سطحوں پر دئیے گئے ردعمل کی ہوتی ہے، ایرانی فل سکیل جنگ سے گریز کرتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران کے پاس اس وقت زیادہ آپشنز موجود نہیں۔
ممکنہ آپشنز
- محدود براہِ راست میزائل حملے
اسرائیل کو ضرب لگانے کی کوشش ۔
2: پراکسی ایکٹیویشن یعنی لبنان، عراق، شام، یمن کے محاذ گرم کرنا تاکہ اسرائیل کو ملٹی فرنٹ پریشر میں لایا جا سکے۔ - خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا ۔یہاں ایران کا پیغام یہ ہوتا ہے: اگر آپ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں تو قیمت مشترکہ ہوگی۔
3) کیا ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے؟
یہ سب سے اہم سوال ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فی صد راستہ ہے۔ تھیوری کے طور پر ایران کے پاس بحری مائنز، سمندر میں مار کرنے والے میزائل اور تیز رفتار کشتیاں وغیر موجود ہیں۔ وہ بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، مگر یاد رکھئے کہ امریکہ کی بھی سب سے زیادہ تیاری اسی چیز کی ہوگی۔ امریکہ یہ بندش نہیں ہونے دے گا۔ امریکہ کاپانچوں بحری بیڑا موجود ہے، اس کے پاس وہ تمام تر وسائل موجود ہیں جو ایسا نہ ہونے دیں۔ ایران کے نقطہ نظر سے یہ ایک خودکشی جیسا کام بھی ہوگا کیونکہ اسکا شدید ترین عالمی ردعمل آئے گا۔ پھر چین اور بھارت جیسے خریدار بھی مخالف ہو جائیں گے اس لئے زیادہ امکان ہیں کہ ایران اگر جائے گا بھی تو مکمل بندش کے بجائے کنٹرول رکاوٹ ڈالنے پر تاکہ انشورنس ریٹس اور تیل کی قیمت بڑھائی جا سکے۔ یہ ایران کا اکنامک لیوریج بھی ہوگا۔
4) عرب ممالک میں امریکی بیسز پر حملہ ، مگر کیوں؟
یہ اہم نکتہ ہے۔ ایران جانتا ہے کہ خلیجی ریاستیں کھل کر اس کے ساتھ نہیں کھڑی ہوں گی، مگر:وہ انہیں مجبور کرنا چاہتا ہے کہ یا تو غیر جانبدار رہیں یا امریکہ کو محدود کریں۔ یہ مگر بہت خطرناک حکمت عملی ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ عرب دنیا کو بتائے کہ اگر جنگ میں ایران جلے گا تو پورا خطہ متاثر ہوگا۔ لیکن اس سے سعودی عرب وغیرہ کھل کر مخالف ہو جائیں گے۔ تاہم سعودی عرب ممکن ہے تمام کارڈز اوپن نہ کرے اور خاموش سفارت کاری کر کے جنگ کو پھیلنے سے بچائے۔
کیا ایران مکمل تنہا ہوگا؟
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عسکری مدد تو اب کوئی بھی ملک کھل کر ایران کی نہیں کرے گا۔ اس اعتبار سے تو وہ تنہا ہے، تاہم ممکن ہے کہ چین کھل کر فوجی مدد نہ دے، مگر کہیں نہ کہیں سفارتی کور فراہم کر دے۔ جبکہ روس بیانیہ سطح پر ایران کا ساتھ دے سکتا ہے۔ایران جنگ کا پاکستان پر براہ راست اثراتتیل کی قیمت: اگر برینٹ آئل میں 10،15% اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کا درآمدی بل اربوں ڈالر بڑھ سکتا ہے۔ مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے۔
ایران،پاکستان سرحد: سرحدی سکیورٹی دباؤ بڑھے گا۔ پراکسی سرگرمیوں کا خطرہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سفارتی توازن انڈیا،اسرائیل گٹھ جوڑ : خطے کے لئے اصل خطرہ
یہ پہلو پاکستان کے لیے سب سے اہم ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعلقات گزشتہ 20 سال میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوئے ہیں:ڈرون ٹیکنالوجی۔میزائل سسٹمز۔انٹیلی جنس شیئرنگ۔سائبر تعاون۔بھارت اسرائیلی اسلحہ کا سب سے بڑا خریداروں میں سے ہے۔ کشمیر میں استعمال ہونے والی کئی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی اسرائیلی ماخذ رکھتی ہے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کھل کر ایران کے خلاف جنگی پوزیشن میں جاتا ہے تو بھارت سفارتی سطح پر اسرائیل کا ساتھ دے گا، اگرچہ براہِ راست فوجی شمولیت کا امکان کم ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب ہے: خطے میں اسرائیل،انڈیا اسٹریٹیجک ہم آہنگی مضبوط ہوگی۔انٹیلی جنس اور دفاعی تعاون جنوبی ایشیا میں بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایران پر دباؤ بڑھے گا تو پاکستان پر بھی سفارتی دباؤ آ سکتا ہے کہ وہ واضح پوزیشن لے۔
اس بحران کا اصل خطرہ کیا ہے؟ یہ جنگ صرف ایران کے خلاف نہیں، طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر لیبارٹری بنایا جا رہا ہے جہاں میزائل تجربات ہوں گے، معیشتیں جلیں گی اور بیانیے بدلے جائیں گے۔ رجیم چینج کا خواب بیچا جا رہا ہے، مگر اس کے پیچھے اصل مقصد مزاحمتی قوتوں کو توڑنا اور اسرائیلی برتری کو ناقابلِ چیلنج بنانا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایران کمزور ہوا تو کیا خطہ محفوظ ہو جائے گا؟ یا پھر طاقت کا یہ خلا نئی آگ کو جنم دے گا؟
پاکستان کو سادہ لوحی کی اجازت نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب خطے میں نقشے بدلتے ہیں تو اثرات سرحدوں سے نہیں رکتے۔ آج ایران ہے، کل کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی، جنوبی ایشیا میں نئی صف بندی کی علامت ہے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ پھیلی تو اس کے شعلے ہماری سرحدوں تک بھی آ سکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو نہ صرف غیر جانبداری اختیار کرنی ہوگی بلکہ واضح، جراتمندانہ سفارتی موقف بھی اپنانا ہوگا۔ خاموش تماشائی بننے کا وقت نہیں، بصیرت اور پیش بندی کا وقت ہے۔ کیونکہ عالمی سیاست میں کمزور کی غیر جانبداری بھی اکثر محفوظ نہیں رہتی۔