جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں طاقت کا توازن مزید بگڑتا ہے تو اس کے نتائج جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جائیں گے اور پاکستان کو گھیرنے کی کوششیں تیز ہو سکتی ہیں۔

March 4, 2026

غلامانہ بصیرت اور مولوی سلمان ندوی

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے
جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

موصوف کی وائرل ویڈیو میں پاکستان کو اسلامی قرار دیتے ہوئے طالبان کی وکالت کرنا دکھایا گیا، جبکہ تاریخی طور پر بھی طاقتور حکام کے درباری مفتوں کی حمایت سے متنازع گروہوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا رہا ہے

March 4, 2026

فقہ اسلامی کا ایک اصول اپنی سادگی میں بڑا گہرا ہے کہ غلام کی گواہی معتبر نہیں۔ اس کی علت صاف ہے۔ جس کی روٹی، جس کا رزق، جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو اس سے بے لاگ حق گوئی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ انسان کمزور ہوتا ہے۔ مفاد، خوف اور ضرورت اس کے قدم ڈگمگا دیتے ہیں۔ یہی مجبوری بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کی بھی دکھائی دیتی ہے (یہ مقبولِ زمانہ کتاب سیرت النبی ﷺ کے مصنف نہیں)۔ انہیں بہرحال بھارت میں رہنا ہے، مگر ان کا مسئلہ صرف زندہ رہنا نہیں، وہ دلی سرکار کی قربت میں رہنے کے خواہاں بھی ہیں، جس کے سبب وہ بھارتی مسلمانوں کے درمیان بھی رسوا ہوتے رہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ قابلِ احترام اور بڑے خانوادے سے نسبت رکھنے کے باوجود ان کی فکری قامت چھوٹی اور ذہن غلامانہ ہے، اور اوپر سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا شوق اور اقتدار کے ایوانوں میں آمد و رفت کا ذوق بھی ہے۔ اسی چسکے کے باعث وہ وقفے وقفے سے ایسی درفنطنی چھوڑتے ہیں جو ان کی عزت کی دھجیاں بے شک اڑا دے لیکن نئی بحث کا مرکز ضرور بنا دیتی ہے، یہی ان کا مطمعِ نظر بھی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ہی کہا گیا تھا:

ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

موصوف کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں وہ پاکستان کو اسلامی قرار دیتے ہوئے، بودی دلیل اور کمزور بیانیے کے ساتھ طالبان کی وکالت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ حسن بن صباح کی حشیشین کو بھی عبد الملک بن عطاش اور ابو نجم سراج جیسے خلیفہ المنتصر باللہ کے درباری مفتوں کی تائید حاصل رہی تھی۔ ہر دور کے حشیشین کو کچھ نہ کچھ اہلِ قلم اور اہلِ منبر میسر آ ہی جاتے ہیں۔ جدید دور کے حشاشین کے لیے مودی کے درباری سلمان ندوی دستیاب ہیں تو حیرت کیسی؟ ان کی علمی حیثیت کا حال یہ ہے کہ دنیا بھر کے اہلِ سنت انہیں گستاخِ صحابہ کے لقب سے جانتے ہیں۔ ان کی دریدہ دہنی سے جماعتِ صحابہؓ جیسی مقدس اور مطہر ہستیاں محفوظ نہ رہ سکیں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے لے کر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر صحابہؓ کے بارے میں ان کی تقاریر اور تحریروں میں جو غلیظ زبان اور ننگی گالیاں استعمال ہوئیں، وہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔ جو شخص اسلام کی مقدس شخصیات کے بارے میں اس درجے کی یاوہ گوئی کرے، اس سے پاکستان کے بارے میں منصفانہ بات کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ جس زبان سے صحابہؓ نہ بچ سکے، اس زبان سے ریاست پاکستان کے حق میں کیا خیر نکلے گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ وہ کسی متنازع اور خون آلود خوار گروہ کے وکیل بن کر سامنے آئے ہوں۔ اس سے پہلے وہ داعش کے بانی ابو بکر البغدادی کی تعریف میں رطب اللسان رہے، اسے خلیفۃ المسلمین قرار دیا، مبارکباد کے خطوط لکھے، بیعت کا اظہار کیا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو خود کو عالم دین کہتا ہو اور عالمی دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کو مبارکباد بھی دے، وہ بھارت جیسے ملک میں کس انجام سے دوچار ہونا چاہیے؟، جہاں بے گناہ مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزامات میں مار دیا جاتا ہے۔ مگر انہیں نہ صرف سرکاری پروٹوکول میسر ہے بلکہ مال و دولت کی فراوانی بھی۔ اس کے سوا اور کیا مطلب لیا جائے کہ ’’قوم فروختند چہ ارزاں فروختند‘‘۔ ان کا ماضی اس قدر متنازع ہے کہ خود بھارتی مسلمان بھی دو کوڑی کی اہمیت نہیں دیتے، بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس پس منظر میں جب وہ پاکستان اور اس کے علما پر انگلی اٹھاتے ہیں تو بات محض ایک بیان نہیں رہتی، ایک بڑے سیاسی سیاق کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایسے ہی لوگ، جو کفار کی خوشنودی کے لیے دین تک بیچ ڈالیں، یہی وہ لوگ ہیں جو قرآن کی اس وعید کا مصداق ہیں۔
اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (9)
ترجمہ: انہوں نے اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا پھر (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روک دیا۔ یہ بہت برا کر رہے ہیں، مگر انہیں معلوم نہیں۔
یہ آیت ایسے مواقع پر غیر معمولی طور پر معنی خیز ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا جب گمراہ علما پیدا ہوں گے۔ وہ علم کو دنیا کے بدلے بیچ دیں گے۔ آج جب ہم ایسے بیانات سنتے ہیں جن میں مذہب کو سیاسی مصلحت کے تابع کیا جا رہا ہو، تو یہ تنبیہ یاد آتی ہے۔

سلمان ندوی کا تعلق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے بھی رہا ہے۔ 2018 میں بابری مسجد کا معاملہ عدالت سے بالا بالا طے کرنے یعنی مسلمانوں کی اجتماعی محنت کو بیچ ڈالنے کی کوشش کرتے پکڑے گئے، سری روی شنکر سمیت مسلم دشمن ہندو رہنماؤں سے شیر و شکر ہوتے پائے گئے، جس پر بورڈ سے نکال دیے گئے۔ ندوۃ پر تاحال قابض ہیں، اور وہاں بھی تنازعات کے سبب اس عظیم الشان علمی مرکز کی عزت و وقار کو داغدار کرنے کے سوا ان کے پاس کچھ بھی نہیں، کیونکہ اس کا ہر قدم قرآن و سنت کے بجائے بھارتی را کی پیروی اور ہندوتوا اور مودی کی خوشنودی کے لیے اٹھتا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ بھارتی خفیہ ادارے بعض مذہبی شخصیات کو اپنے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں، اجیت ڈوول اپنے خطابات میں سب کچھ بیان کر چکا ہے، ملا متقی کی بھارت میں پذیرائی اور دارالعلوم دیوبند میں اس کا پروٹوکول اسی سلسلے کی کڑی تھے اور اب مولانا ندوی کا یہ موقف بھی اسی شیطانی اسٹریٹجک فریم ورک کا حصہ ہے۔ ایک ایسا شخص جو ماضی میں داعش کے سربراہ کی مدح سرائی کر چکا ہو، آج طالبان کے حق میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے تو یہ اس کی سادہ لوحی نہیں بلکہ ہندوتوا کے استعماری اور مسلم دشمن ایجنڈے کے لیے دین سے غداری ہے۔

پاکستان کے علما نے تاریخی طور پر برصغیر ہی نہیں پوری دنیا کے دینی حلقوں کو متاثر کیا اور اپنا مقام بنایا ہے۔ افغانستان اور دنیا بھر کے لاکھوں تشنگانِ علم نے یہیں سے علم کی پیاس بجھائی ہے۔ ندوۃ العلماء کے قابلِ احترام سپوت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ عرف علی میاں ندویؒ پاکستان کو عالم اسلام کا اہم مرکز اور دنیا کے لیے مشعلِ راہ قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک پاکستان دنیا کے لیے ایک اسلامی ماڈل اور مدارس کو امت کی بقا کا ضامن قرار دیتے تھے۔ 1964ء، 1978ء، 1986ء اور آخری دورہ 1998ء میں ان کے لیکچرز کے مجموعے “احادیث پاکستان” اور “تحفہ پاکستان” کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ انہی مدارس سے ہندوستان اور افغانستان کے ہزاروں طلبہ نے تعلیم پائی۔ ایسے ملک اور اس کے علما کو غیر اسلامی قرار دینا کوئی علمی فتویٰ نہیں بلکہ ہندوتوا کی چاکری ہے، خاص طور پر جب عالمی سطح پر مسلمہ شخصیات، جیسے مفتی تقی عثمانی، اپنی علمی خدمات کے باعث پورے عالم اسلام میں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ایسے ہی بندگانِ اقتدار کے لیے کہا تھا:

مُلّا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

یہ شعر آج بھی سوال بن کر کھڑا ہے۔ اگر کسی عالم کو اقتدار کے سائے میں سانس لینے کی سہولت مل جائے تو کیا وہ واقعی آزاد ہے۔ 2021 کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ معاشی روابط، انسانی امداد اور سفارتی سطح پر تعاون کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سرحد پار دہشت گردی کسی ذمہ دار ریاست کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ دفاعی اقدامات کو جارحیت کہنا علمی بددیانتی ہے۔ بھارتی شہری کی حیثیت سے سلمان ندوی کے بیانات کو نئی دہلی کی علاقائی سازشوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ فقہ کا وہ اصول پھر یاد آتا ہے۔ غلام کی گواہی معتبر نہیں۔ جو شخص اپنے ماحول، اپنے مفاد، اپنی سلامتی اور اپنے سیاسی سرپرستوں کا اسیر ہو، اس سے غیر جانبدار فیصلہ اور بے لاگ رائے کی امید رکھنا سادہ لوحی ہے۔ مسئلہ شخصیات کا نہیں، اصول کا ہے۔ دین کو سیاست کا آلہ بنانے والے ہمیشہ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اہلِ نظر انہیں پہچانتے ہیں یا نہیں

متعلقہ مضامین

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

بین الاقوامی اداروں کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے محرکات کو نظرانداز کرنا اور محض یک طرفہ بیانیے کو فروغ دینا خطے میں امن کی کوششوں کو ثبوتاژ کرنے کے مترادف ہے

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *