شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا معاملہ ستمبر 2026 تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے نئی مستقل نشستوں کی مخالفت کرتے ہوئے منتخب غیر مستقل نشستوں میں اضافے کی حمایت کی ہے۔

August 11, 2026

اقوامِ متحدہ کی مطابق طالبان ایک مسلح تحریک سے شفاف اور جواب دہ ریاستی نظام کی طرف منتقل ہونے میں ناکام رہے ہیں اور ان کے سکیورٹی اداروں میں احتساب کا شدید فقدان ہے۔

August 11, 2026

آپریشن غضب للحق: اب تک افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک، 198 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں
آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین عسکری صورتحال؛ افغان طالبان کے 481 ہلاک اور 696 زخمی۔ 56 مقامات پر فضائی کاروائیوں نے مخالف سائیڈ کا جنگی جنون سرد کر دیا

March 4, 2026

سرحد پار سے جاری اشتعال انگیزیوں اور حالیہ کشیدگی کے جواب میں شروع کیا گیا “آپریشن غضب للحق” اب اپنے انتہائی فیصلہ کن اور شدید مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 4 مارچ کی شام 1600 گھنٹے تک موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق اس آپریشن نے افغان طالبان کی عسکری قوت اور ان کی عسکری قوت کو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ مدتوں ممکن نہ ہوگا۔ یہ کاروائی اب محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہی بلکہ ایک بھرپور عسکری جواب بن چکی ہے۔

ہلاکتیں

اعداد و شمار اس آپریشن کی شدت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اب تک کی براہِ راست جھڑپوں اور ٹارگٹڈ کاروائیوں میں افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زائد افراد شدید زخمی حالت میں ہیں۔ جانی نقصانات کی یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی افواج نے نہایت مہارت اور درستی کے ساتھ ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے شرپسندی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

چیک پوسٹوں کا صفایا

آپریشن غضب للحق کی حکمتِ عملی میں دشمن کے زمینی قبضے کو ختم کرنا اولین ترجیح رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 226 چیک پوسٹیں مکمل طور پر زمین بوس کر دی گئی ہیں، جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 35 پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان پوسٹوں کے چھن جانے سے افغان طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن سے پسپائی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔

عسکری ساز و سامان کی تباہی

اس آپریشن نے افغان طالبان کے اس زعم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جو وہ جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیوں کی بنیاد پر رکھتے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر بھاری اسلحے کی تباہی کا مطلب یہ ہے کہ اب مخالف قوت کے پاس جوابی کاروائی کے لیے درکار فائر پاور کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

فضائی کاروائیاں

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے اپنا بھرپور لوہا منوایا ہے۔ افغانستان کے اندرونی حصوں میں واقع 56 حساس مقامات پر کی جانے والی فضائی کاروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔ ان حملوں میں نہ صرف اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان پناہ گاہوں کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا جو اب تک محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔

مجموعی طور پر آپریشن غضب للحق نے افغان طالبان کو اس حقیقت سے روشناس کرا دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا انجام کتنا بھیانک ہو سکتا ہے۔ 481 لاشیں اور تباہ شدہ جنگی مشینری اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سلامتی پر حرف آنے کی صورت میں ردعمل کی لہر کس قدر بے رحم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے گھنٹے مخالف کی مکمل شکست پر مہر ثبت کر دیں گے۔

یہ محض ایک عسکری کاروائی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کے لیے ایک دوٹوک اور زبردست جواب ہے جو دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کر رہی تھیں۔ افغان سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہوں کا اس طرح نشانہ بننا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کے لیے کوئی رعایت باقی نہیں بچی۔ ریاستِ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اپنی بقا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی، اور یہ حالیہ نقصانات ان لوگوں کے لیے نوشتہ دیوار ہیں جو اب بھی دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا وہم پالے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

شامی عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو ان کی غیر موجودگی میں جان بوجھ کر قتل کے الزامات میں سزائے موت سنا دی ہے۔

August 11, 2026

یمن کے قریب آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر مبینہ حوثی حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان جاں بحق ہو گئے، جن میں دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہیں۔

August 11, 2026

راولپنڈی کے مال روڈ پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والا حملہ آور جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گیا، جس کی شناخت پی ٹی آئی کارکن محمد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔

August 11, 2026

امریکہ میں پی ٹی ایم کی تقریب کے تناظر میں شائع تجزیے میں آمو سے اباسین کے نعرے کو خطے کی تاریخی و جغرافیائی حقیقتوں سے منافی اور غیر پشتون آبادیوں کی شناخت کو نظرانداز کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

August 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *