افغانستان کے صوبہ نیمروز میں مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات، طالبان حکام کی جانب سے ڈرون پر فائرنگ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

April 20, 2026

بنوں میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا اہم رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختار خودکش بمبار سمیت ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت میں ملوث ماسٹر مائنڈ انجام کو پہنچ گیا۔

April 20, 2026

بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون پولیس افسر کی شہادت؛ خضدار میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید، شوہر کے بعد اہلیہ نے بھی وطن پر جان قربان کر دی۔

April 20, 2026

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پاک افغان تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن گیا؛ پاکستان نے افغان میڈیا کے جارحانہ کردار کی تعریف کو ‘پراکسی وار’ کا اعتراف قرار دے دیا، ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات۔

April 20, 2026

لکی مروت کے علاقے اخوندان میں پولیس کا ٹارگٹڈ آپریشن؛ فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر ساتھی سمیت ہلاک، مقابلے میں ایک پولیس جوان نے جامِ شہادت نوش کر لیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری۔

April 20, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ؛ 18 ہزار اہلکار تعینات، ریڈ زون سیل اور میٹرو بس سروس معطل، جڑواں شہروں میں سنائپرز اور رینجرز نے مورچے سنبھال لیے۔

April 20, 2026

آپریشن غضب للحق: اب تک افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک، 198 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں
آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین عسکری صورتحال؛ افغان طالبان کے 481 ہلاک اور 696 زخمی۔ 56 مقامات پر فضائی کاروائیوں نے مخالف سائیڈ کا جنگی جنون سرد کر دیا

March 4, 2026

سرحد پار سے جاری اشتعال انگیزیوں اور حالیہ کشیدگی کے جواب میں شروع کیا گیا “آپریشن غضب للحق” اب اپنے انتہائی فیصلہ کن اور شدید مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 4 مارچ کی شام 1600 گھنٹے تک موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق اس آپریشن نے افغان طالبان کی عسکری قوت اور ان کی عسکری قوت کو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ مدتوں ممکن نہ ہوگا۔ یہ کاروائی اب محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہی بلکہ ایک بھرپور عسکری جواب بن چکی ہے۔

ہلاکتیں

اعداد و شمار اس آپریشن کی شدت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اب تک کی براہِ راست جھڑپوں اور ٹارگٹڈ کاروائیوں میں افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زائد افراد شدید زخمی حالت میں ہیں۔ جانی نقصانات کی یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی افواج نے نہایت مہارت اور درستی کے ساتھ ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے شرپسندی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

چیک پوسٹوں کا صفایا

آپریشن غضب للحق کی حکمتِ عملی میں دشمن کے زمینی قبضے کو ختم کرنا اولین ترجیح رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 226 چیک پوسٹیں مکمل طور پر زمین بوس کر دی گئی ہیں، جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 35 پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان پوسٹوں کے چھن جانے سے افغان طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن سے پسپائی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔

عسکری ساز و سامان کی تباہی

اس آپریشن نے افغان طالبان کے اس زعم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جو وہ جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیوں کی بنیاد پر رکھتے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر بھاری اسلحے کی تباہی کا مطلب یہ ہے کہ اب مخالف قوت کے پاس جوابی کاروائی کے لیے درکار فائر پاور کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

فضائی کاروائیاں

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے اپنا بھرپور لوہا منوایا ہے۔ افغانستان کے اندرونی حصوں میں واقع 56 حساس مقامات پر کی جانے والی فضائی کاروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔ ان حملوں میں نہ صرف اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان پناہ گاہوں کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا جو اب تک محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔

مجموعی طور پر آپریشن غضب للحق نے افغان طالبان کو اس حقیقت سے روشناس کرا دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا انجام کتنا بھیانک ہو سکتا ہے۔ 481 لاشیں اور تباہ شدہ جنگی مشینری اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سلامتی پر حرف آنے کی صورت میں ردعمل کی لہر کس قدر بے رحم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے گھنٹے مخالف کی مکمل شکست پر مہر ثبت کر دیں گے۔

یہ محض ایک عسکری کاروائی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کے لیے ایک دوٹوک اور زبردست جواب ہے جو دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کر رہی تھیں۔ افغان سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہوں کا اس طرح نشانہ بننا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کے لیے کوئی رعایت باقی نہیں بچی۔ ریاستِ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اپنی بقا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی، اور یہ حالیہ نقصانات ان لوگوں کے لیے نوشتہ دیوار ہیں جو اب بھی دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا وہم پالے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان کے صوبہ نیمروز میں مبینہ پاکستانی ڈرون حملے کی اطلاعات، طالبان حکام کی جانب سے ڈرون پر فائرنگ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

April 20, 2026

بنوں میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا اہم رنگ لیڈر وحید اللہ عرف مختار خودکش بمبار سمیت ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز کی شہادت میں ملوث ماسٹر مائنڈ انجام کو پہنچ گیا۔

April 20, 2026

بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون پولیس افسر کی شہادت؛ خضدار میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز شہید، شوہر کے بعد اہلیہ نے بھی وطن پر جان قربان کر دی۔

April 20, 2026

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان پاک افغان تعلقات میں نئی کشیدگی کا باعث بن گیا؛ پاکستان نے افغان میڈیا کے جارحانہ کردار کی تعریف کو ‘پراکسی وار’ کا اعتراف قرار دے دیا، ٹی ٹی پی اور افغان حکومت کے گٹھ جوڑ پر شدید تحفظات۔

April 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *