امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

آپریشن غضب للحق: اب تک افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک، 198 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں
آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین عسکری صورتحال؛ افغان طالبان کے 481 ہلاک اور 696 زخمی۔ 56 مقامات پر فضائی کاروائیوں نے مخالف سائیڈ کا جنگی جنون سرد کر دیا

March 4, 2026

سرحد پار سے جاری اشتعال انگیزیوں اور حالیہ کشیدگی کے جواب میں شروع کیا گیا “آپریشن غضب للحق” اب اپنے انتہائی فیصلہ کن اور شدید مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 4 مارچ کی شام 1600 گھنٹے تک موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق اس آپریشن نے افغان طالبان کی عسکری قوت اور ان کی عسکری قوت کو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے جس کا ازالہ مدتوں ممکن نہ ہوگا۔ یہ کاروائی اب محض ایک سرحدی جھڑپ نہیں رہی بلکہ ایک بھرپور عسکری جواب بن چکی ہے۔

ہلاکتیں

اعداد و شمار اس آپریشن کی شدت کی گواہی دے رہے ہیں کہ اب تک کی براہِ راست جھڑپوں اور ٹارگٹڈ کاروائیوں میں افغان طالبان کے 481 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 696 سے زائد افراد شدید زخمی حالت میں ہیں۔ جانی نقصانات کی یہ شرح ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی افواج نے نہایت مہارت اور درستی کے ساتھ ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے شرپسندی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔

چیک پوسٹوں کا صفایا

آپریشن غضب للحق کی حکمتِ عملی میں دشمن کے زمینی قبضے کو ختم کرنا اولین ترجیح رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 226 چیک پوسٹیں مکمل طور پر زمین بوس کر دی گئی ہیں، جبکہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل 35 پوسٹوں کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ ان پوسٹوں کے چھن جانے سے افغان طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن سے پسپائی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔

عسکری ساز و سامان کی تباہی

اس آپریشن نے افغان طالبان کے اس زعم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے جو وہ جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیوں کی بنیاد پر رکھتے تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 198 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر بھاری اسلحے کی تباہی کا مطلب یہ ہے کہ اب مخالف قوت کے پاس جوابی کاروائی کے لیے درکار فائر پاور کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

فضائی کاروائیاں

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے اپنا بھرپور لوہا منوایا ہے۔ افغانستان کے اندرونی حصوں میں واقع 56 حساس مقامات پر کی جانے والی فضائی کاروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔ ان حملوں میں نہ صرف اسلحہ کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان پناہ گاہوں کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا جو اب تک محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔

مجموعی طور پر آپریشن غضب للحق نے افغان طالبان کو اس حقیقت سے روشناس کرا دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا انجام کتنا بھیانک ہو سکتا ہے۔ 481 لاشیں اور تباہ شدہ جنگی مشینری اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سلامتی پر حرف آنے کی صورت میں ردعمل کی لہر کس قدر بے رحم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے گھنٹے مخالف کی مکمل شکست پر مہر ثبت کر دیں گے۔

یہ محض ایک عسکری کاروائی نہیں بلکہ ان تمام قوتوں کے لیے ایک دوٹوک اور زبردست جواب ہے جو دہشت گردوں کو سہولت کاری فراہم کر رہی تھیں۔ افغان سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہوں کا اس طرح نشانہ بننا اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اب فتنہ الخوارج اور ان کے سرپرستوں کے لیے کوئی رعایت باقی نہیں بچی۔ ریاستِ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اپنی بقا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گی، اور یہ حالیہ نقصانات ان لوگوں کے لیے نوشتہ دیوار ہیں جو اب بھی دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا وہم پالے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *