اس واقعے نے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ دن قبل افغان طالبان نے ایک ایسی چھوٹی بچی کو گرفتار کیا تھا جو یتیم تھی اور خاندان کی کفالت کیلئے لڑکا بن کر ایک ہوٹل پر کام کر رہی تھی۔

March 5, 2026

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

March 5, 2026

اس سے قبل ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

March 4, 2026

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔

March 4, 2026

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

March 4, 2026

لڑکوں کا لباس پہننے پر ٹی ٹی پی نے چودہ سالہ بچی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، انسانی حقوق کے نمائندوں کی تنقید

اس واقعے نے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ دن قبل افغان طالبان نے ایک ایسی چھوٹی بچی کو گرفتار کیا تھا جو یتیم تھی اور خاندان کی کفالت کیلئے لڑکا بن کر ایک ہوٹل پر کام کر رہی تھی۔
لڑکوں کا لباس پہننے پر ٹی ٹی پی نے چودہ سالہ بچی کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، انسانی حقوق کے نمائندوں کی تنقید

انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

March 5, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک کم عمر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں موجود لڑکی مردانہ لباس میں ملبوس ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے اسی بنیاد پر مارا پیٹا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو کے ساتھ یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد طالبان سے وابستہ ہیں۔

اگرچہ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک ’’شرعی جہادی تحریک‘‘ ہے جو غیر شرعی اقدامات یا ماورائے عدالت کسی کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ ترجمان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تحریک کی قیادت نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

تاہم، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں ٹی ٹی پی نے ان بنیادوں پر کسی خاتون کو نشانہ بنایا ہو۔ ترجمان کا یہ بیان محض عوامی ردعمل سے بچنے کا ایک طریقہ معلوم ہو رہا ہے۔ اس واقعے نے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ دن قبل افغان طالبان نے ایک ایسی چھوٹی بچی کو گرفتار کیا تھا جو یتیم تھی اور خاندان کی کفالت کیلئے لڑکا بن کر ایک ہوٹل پر کام کر رہی تھی۔

سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی کی عمر تقریباً 14 سال بتائی جا رہی ہے اور اسے صرف اس بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ عموماً لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی تھی۔

انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ کرنل رینک کے افسر نے اس مقدمے کے اندراج میں اپنا نام آنے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

March 5, 2026

اس سے قبل ہائی کورٹ آف جسٹس کے جج رچرڈ اسپئیرمین کے سی نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

March 4, 2026

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق صرف 2025 کے دوران 1,100 سے زائد عوامی کوڑوں کی سزائیں ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔

March 4, 2026

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چند رہنما اپنے اہلِ خانہ سمیت نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *