خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک کم عمر لڑکی کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں موجود لڑکی مردانہ لباس میں ملبوس ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے اسی بنیاد پر مارا پیٹا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو کے ساتھ یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنانے والے افراد طالبان سے وابستہ ہیں۔
اگرچہ اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان ایک ’’شرعی جہادی تحریک‘‘ ہے جو غیر شرعی اقدامات یا ماورائے عدالت کسی کو سزا دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ ترجمان کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تحریک کی قیادت نے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
تاہم، یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں ٹی ٹی پی نے ان بنیادوں پر کسی خاتون کو نشانہ بنایا ہو۔ ترجمان کا یہ بیان محض عوامی ردعمل سے بچنے کا ایک طریقہ معلوم ہو رہا ہے۔ اس واقعے نے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان میں مماثلت بھی سامنے آئی ہے۔ کچھ دن قبل افغان طالبان نے ایک ایسی چھوٹی بچی کو گرفتار کیا تھا جو یتیم تھی اور خاندان کی کفالت کیلئے لڑکا بن کر ایک ہوٹل پر کام کر رہی تھی۔
سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ویڈیو پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ متعدد حلقوں کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی لڑکی کی عمر تقریباً 14 سال بتائی جا رہی ہے اور اسے صرف اس بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ عموماً لڑکوں جیسے کپڑے پہنتی تھی۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔