پاکستان نے اپنی روایتی ٹیکسٹائل اور زرعی معیشت سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر اسلحہ برآمد کرنے والا ایک اہم ملک بننے کے لیے جے ایف-17 تھنڈر کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے۔ ڈی ڈبلیو کی ایک حالیہ دستاویزی فلم کے مطابق چین کے تعاون سے تیار کردہ یہ لڑاکا طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کی قیمت 30 سے 40 ملین ڈالر کے درمیان ہے، جو فرانسیسی ساختہ رافیل جیسے مغربی طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی اور پرکشش ہے۔
پاکستان کی اس دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کو ‘آئیڈیاز 2024’ کی نمائش کے بعد مزید تقویت ملی ہے، جہاں تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان کیا گیا، جن میں آذربائیجان کے ساتھ 4.6 ارب ڈالر کا خطیر معاہدہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق نائجیریا اور میانمار کو ان طیاروں کی برآمد پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک کے ساتھ فروخت کے حوالے سے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ فضائی جھڑپوں کے بعد جے ایف-17 کی جنگی صلاحیتوں پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کی برآمد کے لیے چین کی منظوری اور اہم پرزہ جات کی فراہمی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر ان مفاہمتی یادداشتوں کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کر لیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی خطیر آمدنی پاکستان کا آئی ایم ایف (IMF) جیسے عالمی اداروں پر انحصار کم کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔