امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

September 25, 2026

آذربائیجان کے ساتھ جے ایف-17 کی فروخت کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا: 1.6 ارب ڈالر کی دفاعی برآمدات

جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے
جے ایف-17 تھنڈر پاکستان کی دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کا محور بن گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکسٹائل سے ہٹ کر اسلحہ سازی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے

پاکستان جے ایف-17 تھنڈر کے ذریعے عالمی دفاعی منڈی میں قدم جما رہا ہے۔ 30 ارب ڈالر کی مفاہمتی یادداشتیں اور آذربائیجان کے ساتھ اربوں ڈالر کا معاہدہ

March 5, 2026

پاکستان نے اپنی روایتی ٹیکسٹائل اور زرعی معیشت سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر اسلحہ برآمد کرنے والا ایک اہم ملک بننے کے لیے جے ایف-17 تھنڈر کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے۔ ڈی ڈبلیو کی ایک حالیہ دستاویزی فلم کے مطابق چین کے تعاون سے تیار کردہ یہ لڑاکا طیارہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کی قیمت 30 سے 40 ملین ڈالر کے درمیان ہے، جو فرانسیسی ساختہ رافیل جیسے مغربی طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی اور پرکشش ہے۔

پاکستان کی اس دفاعی برآمدی حکمتِ عملی کو ‘آئیڈیاز 2024’ کی نمائش کے بعد مزید تقویت ملی ہے، جہاں تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشتوں کا اعلان کیا گیا، جن میں آذربائیجان کے ساتھ 4.6 ارب ڈالر کا خطیر معاہدہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق نائجیریا اور میانمار کو ان طیاروں کی برآمد پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر ممالک کے ساتھ فروخت کے حوالے سے بات چیت آخری مراحل میں ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ فضائی جھڑپوں کے بعد جے ایف-17 کی جنگی صلاحیتوں پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کی برآمد کے لیے چین کی منظوری اور اہم پرزہ جات کی فراہمی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر ان مفاہمتی یادداشتوں کو باقاعدہ معاہدوں میں تبدیل کر لیا جائے تو اس سے حاصل ہونے والی خطیر آمدنی پاکستان کا آئی ایم ایف (IMF) جیسے عالمی اداروں پر انحصار کم کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *